مشرقی وسطیٰ میں امن کے لئے پاکستان کے سفارتی مشن کا اگلا اہم قدم آج اس وقت اٹھایا جائے گا جب وزیراعظم شہبازشریف عازم سعودی عرب ہوں گے، جہاں (بدھ) کی شام ان کی سعودی وزیراعظم ولی عہد شہادہ محمد بن سلمان سے ان کے ساحلی محل میں حد درجہ اہم ملاقات ہوگی۔
امکان ہے جمعرات کی شب واپس آجائیں گے ٹرمپ کے اعلان کے مطابق مذاکرات میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں گے، اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی کا بھی قوی امکان ہے۔
لائق اعتماد ذرائع نے جنگ/ دی نیوز کو منگل کی شب بتایا ہے کہ ایران، امریکہ مذاکرات کے آئندہ چار دنوں میں شروع ہونے والے دوسرے مذاکراتی دور، جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اور ایران، امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے تناظر میں اس ملاقات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگی۔
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس موقع پر سعودی حکمرانوں کا فراخدلانہ، مالی اعانت پر شکریہ ادا کرے گی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالرز کی سپورٹ اگلے ہفتے تک ہمیں مل جائے گی۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہماری سعودی وزیرِ خزانہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی، پچھلے جمعے کو بھی اسلام آباد میں سعودی وزیرِ خزانہ سے گفتگو ہوئی تھی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سعودی وزیرِ خزانہ نے واضح بتایا کہ 3 ارب کی سپورٹ اضافی ڈپازٹس کی صورت میں ادا کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے ہفتے 1.4بلین ڈالرز کی ادائیگیاں کی ہیں، تمام ادائیگیاں وقت پر کریں گے۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ 5 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ کی بھی سالانہ رول اوور کے بجائے 3 سال کی توسیع ہو جائے گی، سالانہ رول اوور کے بجائے اس کی میچورٹی 2028ء تک جائے گی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کے شکر گزار ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی وزیرِ خزانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔










Post your comments