آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا امریکی جنگی جہاز پر حملے کا دعویٰ، امریکا کی تردید

ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی جنگی جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے تاہم امریکا نے اس کی تردید کر دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جہاز ایرانی بندرگاہ جاسک کے قریب داخل ہوا اور وارننگ نظر انداز کرنے پر اس پر 2 میزائل داغے گئے جس کے بعد وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والی امریکی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس اہم گزرگاہ کی سیکیورٹی ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں ممکنہ طویل جنگ کی تیاریوں کا عمل بھی جاری ہے۔

ایرانی حکام میزائل اور ڈرون صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملک میں انٹرنیٹ بندش بھی جاری ہے جو 90 ملین سے زائد افراد کو متاثر کر رہی ہے۔

ایرانی حکومت نے ’جانِ فدا‘ نامی مہم بھی شروع کر رکھی ہے جس میں عوام کو قربانی کے لیے تیار رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اس مہم میں 31 ملین افراد شامل ہو چکے ہیں تاہم غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ان اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عبّاس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں کے باعث امریکا سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو اپنا برا چاہنے والوں سے محتاط رہنا چاہیے جو امریکا کو پھر سے دلدل میں گھسیٹنا چاہتے ہیں، اسی طرح متحدہ عرب امارات کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کا پروجیکٹ فریڈم، دراصل پراجیکٹ ڈیڈ لاک ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *