موڈیز کی اسسٹنٹ نائب صدر گریس لِم نے پاکستان کی معیشت کو عالمی اور علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں قرار دے دیا۔گریس لِم کے مطابق پاکستان کی معیشت 2022ء کے تیل بحران کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے بحران کا پاکستان پر ممکنہ اثر بھی 2022ء کے مقابلے میں کم ہو گا۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے برآمدکنندگان کیلئےسپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیج ہے، کاروبار کو آسان بنانے کیلئے موثر اقدامات کر رہے ہیں، توانائی کی لاگت میں کمی اہم ترجیحات میں شامل ہیں، مشکل حالات کے باوجود مشاورت سے بنیادی اصلاحات کی گئیں، FBRنے انفورسمنٹ کے ذریعے ایک سال میں 800 ارب روپے ریکور کئے، حکومت کی معاشی ٹیم کی کوششوں کی بدولت ملک کے میکرو اکنامک حالات میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے تاہم مائیکرو اکنامک سطح پر بہتری لانے کیلئے ہمیں مزید محنت کرنی ہے تاکہ معاشی بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد سے ملاقات میں کی ۔ وزیر اعظم نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا۔وفد کے اراکین میں میاں محمد منشاء، عارف حبیب، ثاقب شیرازی، عاطف باجوہ، محمد علی طبہ، مصدق ذوالقرنین، عمر سعید، صمد داؤد، اشرف موکاتی، شاہد صورتی، شہزاد اصغر، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، آصف پیر، عامر ابراہیم، جاوید بلوانی، صدیق بھٹی، فواد انور، خرم مختار اور یوسف حسین شامل تھے۔وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج کے ملاقات کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے حوالے سے مشاورت ہے۔














Post your comments