جنگ بندی مثبت بات چیت کا بہترین ذریعہ ہے، لبنانی صدر

لبنانی صدر جوزف خلیل عون نے کہا ہے کہ جنگ بندی مثبت بات چیت کی راہ ہموار کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق لبنانی صدر نے بیروت سے جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی کے عمل کو مقامی اور بین الاقوامی برادری نے سراہا، براہ راست مذاکرات نازک اور اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی مثبت بات چیت کی راہ ہموار کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد لبنانی فوج بین الاقوامی سرحد پر اہم کردار ادا کرے گی۔

جوزف عون نے مزید کہا کہ ہمارا واضح مؤقف جنگ بندی کو جاری رکھنا، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء قیدیوں کی واپسی اور سرحدی تنازعات کا حل ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔ 

ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 17 سے 19 اپریل تک جاری رہنے والے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران پورے خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے، کسی بھی جنگ بندی میں تمام محاذ شامل ہونے چاہئیں۔

سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ہم کسی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کریں گے، یہ تنازع اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز تاریخی طور پر کھلی رہی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے، مگر طویل عرصے سے قابلِ رسائی رہی ہے۔

سعید خطیب زادہ نے کہا کہ امریکی، اسرائیلی اقدامات نے عالمی تجارت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کردیا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد نے ثالثی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کیا۔

 تہران میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ہونے والی ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے پاکستان کے آرمی چیف اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی کوششوں کو سراہا، انہوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جو دفاعی ضرورت کے تحت کیا گیا اقدام تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے پیچھے اسرائیلی حکومت کی سازشیں کارفرما ہیں، جو اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

صدر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی دنیا کو اتحاد اور باہمی تعاون کے ذریعے ایسے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا، ورنہ خطہ مسلسل جنگ کے خطرے سے دوچار رہے گا۔

ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کو ’غیر قانونی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کس اجازت کے تحت یہ حملے کیے گئے، جن میں عام شہری، بچے، اسکول اور اسپتال متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت شروع سے ہی اندرون و بیرون ملک بھائی چارے اور تعلقات کے فروغ پر کام کر رہی ہے، تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اشتعال انگیز اقدامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے پاکستان کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے دیگر اسلامی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسی طرح ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، کیونکہ اتحاد ہی امتِ مسلمہ کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *