ناسا کا طاقتور نئے تھرسٹر کا کامیاب تجربہ، مریخ تک سفر تیز ہونے کی امید

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک طاقت ور نئے تھرسٹر کی کامیاب آزمائش کر لی ہے، جسے مستقبل میں انسانوں کو مریخ تک نسبتاً کم وقت میں پہنچانے کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

ناسا کے مطابق لیتھیئم سے چلنے والے میگنیٹو پلازما ڈائنامک تھرسٹر کا تجربہ جنوبی کیلیفورنیا میں واقع ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری  میں کیا گیا۔

آزمائش کے دوران برقی مقناطیسی انجن نے تقریباً 120 کلو واٹ طاقت حاصل کی، جو ناسا کے سائیکی خلائی مشن میں استعمال ہونے والے برقی تھرسٹرز کی زیادہ سے زیادہ طاقت سے 25 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

یہ ٹیکنالوجی روایتی کیمیائی راکٹوں سے مختلف ہے، کیمیائی ایندھن جلانے کے بجائے اس نظام میں برقی توانائی کے ذریعے لیتھیئم کو پلازما میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے بعد ازاں برقی رو اور مقناطیسی میدانوں کی مدد سے تیز رفتار سے خارج کیا جاتا ہے۔

ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے اس کامیاب تجربے کو امریکی خلاء بازوں کو مریخ بھیجنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ناسا کی نظر اب بھی مریخ پر ہے اور اس کامیابی سے سرخ سیارے تک رسائی کے لیے حقیقی پیش رفت ظاہر ہوتی ہے۔

ناسا کے مطابق لیتھیئم تھرسٹر کو مجموعی طور پر 5 مرتبہ چلایا گیا اور ہر بار تھرسٹر کے مرکزی الیکٹروڈ کا درجۂ حرارت 5 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ سے تجاوز کر گیا۔

تجربہ ایک 8 میٹر طویل واٹر کولڈ ویکیوم چیمبر میں کیا گیا، جسے دھاتی بخارات استعمال کرنے والے انتہائی طاقت ور برقی تھرسٹرز کی آزمائش کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔

 ناسا کے محققین اگلی نسل کے لیتھیئم  تھرسٹرز کی طاقت کو 500 کلو واٹ سے ایک میگا واٹ تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، تاہم مریخ کے انسانی مشن کے لیے اس ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے سے قبل کئی تکنیکی چیلنجز پر قابو پانا باقی ہے۔

ناسا کے اندازے کے مطابق ایک انسانی مریخ مشن کے لیے کم از کم 2 میگا واٹ بجلی درکار ہو گی، جس کے لیے متعدد تھرسٹرز کو بیک وقت چلانا پڑے گا، مزید یہ کہ ان تھرسٹرز کو 23 ہزار گھنٹے سے زائد مسلسل کام کرنے کے قابل ہونا ہو گا، جس کے لیے انتہائی درجۂ حرارت میں ان کے پرزوں کی طویل مدتی پائیداری ثابت کرنا ضروری ہے۔

اس ٹیکنالوجی پر ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری، پرنسٹن یونیورسٹی اور ناسا کے گلین ریسرچ سینٹر کے محققین تقریباً 3 برس سے کام کر رہے ہیں، یہ تحقیق ناسا کے اسپیس نیوکلیئر پروپلشن پروجیکٹ کا حصہ ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *