اخوند سالاک کے خانوادے کا درخشندہ چراغ: مولانا خراسان تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ اکثر سطحی شہرت کے حامل افراد کو یاد رکھتی ہے، مگر علم و عمل کے اُن حقیقی چراغوں کو فراموش کر دیتی ہے جنہوں نے خاموشی سے سرحدوں کے پار دینِ مبین کی خدمت کی۔ ایسی ہی ایک عہدساز شخصیت مولانا خراسان کی تھی، جن کا اصل نام ابو عبداللہ سید حسن تھا۔ علمی دُنیا میں وہ ’’السید حسن الخراسانی‘‘ کے نام سے معروف تھے، جبکہ ملائیشیا میں اُنہیں ’’ٹوک خراسان‘‘ کے لقب سے شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔ ملائی زبان میں کسی جید عالم یا بزرگ کو احتراماً ’’ٹوک‘‘ کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے خطۂ نوسانتارا میں علمِ حدیث کی ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔

مولانا سید حسن 1875ء میں خیبر پختونخواہ کے تاریخی علاقے بفہ، ضلع مانسہرہ میں پیدا ہوئے۔ آباؤ اجداد کا تعلق بٹگرام کے معزز ’’اخون خیل‘‘ خاندان سے تھا جو بعد ازاں بفہ میں آباد ہوا۔ وہ سترہویں صدی کے عظیم صوفی، مجاہد، مبلغ اور صاحبِ تصانیف بزرگ محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاکؒ کی اولاد میں سے تھے۔ اسی خانوادے کی علمی و روحانی روایت نے ان کے مزاج میں علم دوستی اور حق گوئی پیدا کی۔ نوجوانی میں وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے ہندوستان گئے اور دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرکے اپنے عہد کے ممتاز علما میں شمار ہوئے، جہاں اُنہوں نے وقت کے جلیل القدر محدثین سے براہِ راست فیض حاصل کیا۔

اس حوالے سے ایک اہم دستاویزی شہادت راقم الحروف کے پاس عربی زبان کے ایک تاریخی قلمی نسخے کی صورت میں محفوظ ہے۔ جولائی 2020ء میں جب راقم الحروف اور بھانجے کامران احمد شاہ نے تحقیقی سلسلے میں ملائیشیا میں اس خاندان سے رابطہ کیا تو مولانا خراسان کے فرزند سے قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔ خاندان کے افراد کے مطابق یہ نایاب قلمی نسخہ بیسویں صدی کے اوائل میں خود مولانا خراسان نے تحریر کیا تھا، جس میں حضرت اخوند سالاک کے حالاتِ زندگی، خطے کے تاریخی جہاد اور اپنے نسب نامے کی تفصیل درج ہے۔ وہ پنا نسب  محمد عزیز بن عبدالرحمان بن اخون سالاک تک پہنچاتے ہیں۔

مولانا سید حسن غیر معمولی لسانی صلاحیتوں کے مالک تھے اور عربی، فارسی، اردو، پشتو، ہندی، گورمکھی ، چینی، جاپانی، تھائی اور ملائی جیسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، تاہم اُنہوں نے اپنی مادری زبان پشتو میں کچھ نہیں لکھا۔ بیس برس کی عمر میں شادی کے بعد تبلیغِ دین کیلئے جنوبی افریقہ گئے، مگر واپسی پر اہلیہ کے انتقال کی خبر نے اُنہیں گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ بعد ازاں وہ حجِ بیت اللہ کیلئے حجازِ مقدس روانہ ہوئے اور مکہ و مدینہ میں طویل قیام کیا۔ واپسی پر اُنہوں نے اپنے اساتذہ دیوبند کے مشورے سے مشرقِ بعید کا رُخ کیا، جو اُنکی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا اور یوں یہ مردِ قلندر دعوت و عزیمت کے ایک نئے سفر پر روانہ ہو گیا۔

تقریباً 1912ء میں، 37 برس کی عمر میں، وہ ملائیشیا کی ریاست کیلانتن پہنچے۔ علم و فضل اور خراسانی نسبت کے باعث مقامی لوگوں نے اُنہیں ’’ٹوک خراسان‘‘ کا نام دیا۔ اُنہوں نے پاسیر ماس کی سیتی بنت عثمان سے دوسری شادی کی اور بعد ازاں کامپونگ سیرہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ وہاں بانس کے ایک سادہ چھپر تلے ’’سوراؤ دارالحدیث الخراسانیہ‘‘ قائم کیا، جو آج ’’مسجد ٹوک خراسان‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس دور افتادہ بستی میں اُنہوں نے مقامی آبادی کی اخلاقی و فکری تربیت کی اور خطے کو علومِ اسلامیہ کا مرکز بنا دیا۔

ٹوک خراسان کی علمی توجہ صحاحِ ستہ پر مرکوز تھی اور اُن کا طریقۂ تدریس اپنے دور سے خاصا مختلف تھا۔ وہ مبتدی طلبہ کو پہلے ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ پڑھاتے اور پھر صحاحِ ستہ کا درس دیتے۔ علمِ رجال اور جرح و تعدیل پر اُنکی گرفت اِس قدر مضبوط تھی کہ وہ حدیث کی صحت و ضعف فوری طور پر واضح کر دیتے تھے۔ وہ علم کی تجارت اور ذاتی شہرت دونوں کے سخت مخالف تھے، اُنہوں نے اپنی کتب کو کبھی نہیں چھپوایا؛ تاہم تاریخ، فلسفہ اور عربی گرامر پر اُنکے لکھے گئے مخطوطات جیسے ’’الانصاف‘‘ اور ’’میزان الادیان‘‘ اُن کے علمی مرتبے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

پیر 4 ستمبر 1944ء کو فجر کے وقت علم و عمل کا یہ آفتاب غروب ہوا اور اُنہیں کیلانتن کے ایک تاریخی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ملائیشیا کی حکومت نے اُنکی خدمات کے اعتراف میں ایک اہم شاہراہ  اُن کے نام سے منسوب کر رکھی ہے، جبکہ وہاں اُن کے خاندان نے ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک شاندار مسجد بھی تعمیر کی ہے۔ یہ اقدامات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ملائیشیا کے عوام اور حکومت آج بھی اس عظیم عالمِ دین کی خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُن کا نام وہاں عقیدت و احترام کیساتھ لیا جاتا ہے۔

اس علمی خاندان کا ایک اور درخشندہ نام مولانا خراسان کے سگے بھتیجے حضرت مولانا محمد شعیب تھے، جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے ممتاز تلامذہ میں شمار ہوتے تھے۔ فراغت کے بعد اُنہوں نے بفہ (مانسہرہ) میں ’’دارالعلوم بفہ‘‘ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ سات زبانوں پر عبور رکھنے والے اس جید عالم سے استفادے کیلئے ملائیشیا سے بھی طلبہ بفہ آتے تھے۔ ایک چچا نے ملائیشیا کی علمی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے اور ایک بھتیجے نے خاموشی سے اپنے وطن میں خدمتِ دین انجام دی۔ دونوں کی علمی و روحانی جڑیں حضرت اخوند سالاکؒ کے اسی عظیم مجاہدانہ اور فکری خانوادے سے جا ملتی ہیں جس کی یاد تازہ کرنا آج بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *