بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں ہونےوالے برکس کے نائب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور ایران میں اختلافات ، بھارت پھر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آگیا، بھارت کی مشترکہ اعلامیہ میں اسرائیل، فلسطین سے متعلق زبان کو نرم کرنےکی کوشش ،اجلاس میں بعض ممالک کا اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان پر حملوں کیخلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور، بھارت نے زبان نرم کرنے اور بعض نکات میں تبدیلی کی تجویز دی، برکس اتحاد میں واضح دراڑ نظر آئی، مشترکہ اعلامیہ کی بجائے چیئرمین کے بیان پر اکتفا کرنا پڑا، ایران اور عرب امارات کے درمیان اپنے اپنے علاقوں پر حملوں کی مذمت کے مطالبے پر کھینچا تانی رہی۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیاکےمطابق 23-24اپریل کو ہونےوالے اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور ایران کے نمائندوں کے درمیان حالیہ ایران جنگ پر شدید اختلافات کی وجہ سے کوئی متفقہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا، معاملے سے واقف افراد نے اتوار کو یہ بات بتائی۔برکس کے رکن ممالک کے نائب وزرائے خارجہ اور مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے لیے خصوصی نمائندوں کا یہ اجلاس 23-24 اپریل کو نئی دہلی میں منعقد ہوا، جو کہ اگلے ماہ ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجتماع کی تیاریوں کا سلسلہ تھا۔ اس اجلاس کی توجہ مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر مرکوز تھی، جسے بھارت اسرائیل اور ایران پر امریکی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کے تناظر میں اپنا “توسیعی پڑوس” قرار دیتا ہے۔اعلیٰ حکام کے برکس اجلاس کے بارے میں ایک شخص نے بتایا کہ یہ اجلاس “کوئی متفقہ دستاویز اس لیے تیار نہ کر سکا کیونکہ تنازع کے فریق بننے والے ارکان کے موقف میں شدید فرق تھا”۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایران اور متحدہ عرب امارات تنازع پر اپنے اختلافات ختم نہ کر سکے، جبکہ دونوں ممالک اپنی اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی مذمت کا مطالبہ کر رہے تھے۔انہی اختلافات نے ایران-امریکہ تنازع پر برکس کا مشترکہ بیان جاری کرنے کی کوششوں میں بھی رکاوٹ ڈالی۔مذکورہ بالا شخص نے کہا، “دیگر تمام رکن ممالک کی جانب سے خلیج (خلا) کو پاٹنے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔”لوگوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے برکس اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر بھارت کا موقف وہی تھا جو 26 جنوری کو بھارت اور عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنایا گیا تھا، جب نئی دہلی نے دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔لوگوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ برکس کے بہت سے رکن ممالک نے اکتوبر 2025 میں شرم الشیخ میں ہونے والی “غزہ امن سربراہ کانفرنس” اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی حمایت کی تھی یا اس میں شرکت کی تھی، جو کہ غزہ تنازع ختم کرنے کے لیے امریکہ کے حمایت یافتہ “جامع منصوبے” کی توثیق کرتی ہے، اور کہا کہ یہ گزشتہ سال کے دوران مغربی ایشیا میں نمایاں پیش رفتوں میں سے تھے۔
Home / Breaking News, Home, World / نئی دہلی میں برکس اجلاس، امارات اور ایران میں اختلافات، بھارت پھر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آگیا
نئی دہلی میں برکس اجلاس، امارات اور ایران میں اختلافات، بھارت پھر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آگیا

Weekly Nawai Pakistan E Paper
Article
کنگال ارب پتی از قلم: نجیم شاہ
Posted in: Articles, Homeتاریخ گواہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ سے اپنے قد سے بڑا نظر آنے کی کوشش کی ہے، لیکن موجودہ دور کے ’’کنگال ارب پتیوں‘‘ نے تو کامیڈی کے تمام ریکارڈ ہی توڑ ڈالے ہیں۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کرتی دیکھی کہ طبیعت ہنستے ہنستے باغ باغ ہوگئی۔ ایک صاحب ایرانی […]
Read More








Post your comments