اقرار الحسن اور طاہر اشرفی تحریر :ظفر محمد خان

سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت تو بن گیا ہے لیکن اس کی شعبدے بازیاں بعض اوقات نئے رنگوں کی ایسی کہانیاں پیش کرتی ہیں جن کو سن کے بعض اوقات تو سر پیٹنے کو  دل چاہتا ہے اور بعض اوقات یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ٹی وی کو تو ہم بند کر سکتے ہیں غصے میں لیکن سوشل میڈیا کے لیے اپنے فون کو کس طرح بند کر سکتے ہیں کیونکہ فون بھی اج کل جو دنیا کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے
پچھلی اتوار کا اغاز دو ویڈیوز دیکھنے سے ہوا جس نے گرجتے برستے ایران اور امریکہ کے مسئلے کے بیچ میں پاکستان کی داخلی سیاست اور اس میں مسخرے پن کو نمایاں کیا ایک ویڈیو وہ تھی جس میں لندن میں مولانا طاہر اشرفی کو پھر کسی یوتھیے نے لندن میں گھیر لیا اور ان کی کلاس لینے کی کوشش کی
مولانا طاہر اشرفی سے مجھے کوئی محبت نہیں ہے وہ ایک انتہائی مفاد پرست مولوی ہیں اور ہر حکومت کے ساتھ وہ رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے پاکستان میں بغیر لکھا پڑھی کہ سفیر ہیں اور ہر حکومت کے ساتھ وہ سعودی مفادات کے مطابق وابستہ رہتے ہیں عمران خان کے دور میں بھی وہ عمران خان کی حکومت کے ساتھ اس طرح سے مدغم تھے کہ جیسے ان کی اور عمران خان کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں اور ہمیں نہیں پتہ جب نئی حکومت ائی تو اس نے کس طرح ان کو وہاں سے نکال لیا اور اپنے اغوش میں لے لیا خیر اغوش میں لینا ان کو بہت مشکل ہے چھوٹی موٹی اغوش میں تو یہ انے والے نہیں ہیں روز بروز ان کے چربی بڑھتی جا رہی ہے اور قربانی کے لیے اس وقت جو کراچی کی بکرا  منڈی میں سب سے بڑا بیل ایا ہے میرا خیال ہے اس کا وزن بھی ان سے کم ہی ہوگا
کیونکہ سیاسی گھاٹ گھاٹ  کا پانی پیا  ہے تو انہوں نے لندن میں اپنے اپ کو چھیڑنے والے یوتھیے کی دبا کر متوازی کلاس لی وہ بیچارہ سمجھا تھا ان کو بھی میں عام معصوم مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کی طرح رگڑ دوں گا یا بیچارے پاکستان کی عدالتوں کے سب سے بڑے محافظ قاضی فائض عیسی کی طرح غیر کر  اور انہیں تنگ کرنے کی کوشش کروں گا لیکن یہ پہلے تو اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کے بعد انہوں نے اغاز یہاں سے کیا گیا کہ عمران تو انتہائی نکمہ ادمی تھا اور اس کے بس کا حکومت چلانا تھا ہی نہیں اور ساتھ ساتھ انہوں نے بھی نام لے لے کر فیلڈ مارشل کی تعریفیں کر دیں اور ان کے پیچھے لگا ہوا یوتھیا اپنے مطلب کا نظارہ بنا ہی نہ سکا لیکن کیونکہ اس کا کام تھا ویڈیو کو پوسٹ کر دینا اس نے ویڈیو کو پوسٹ کر دی اور ہمارے معصوم یوتھیے اس ویڈیو کو عمران خان کے حق میں سمجھ کے دبا کے پوسٹ کر رہے ہیں
تو یہ طاہر اشرفی کا سیاسی تجربہ ہے کہ ان کو کوئی بھی شخص چاہے امریکہ ہو یا لندن ہو  نیچے نہیں دکھا سکتا ۔ یہ انہوں نے ثابت کردیا
دوسری ویڈیو اور بھی تباہ کن ہے جب عظیم سیاسی پارٹی پتہ نہیں کیا نام پارٹی کے رہنما اقرار الحسن کو لاہور ایئرپورٹ پر امیگریشن کے ایک معمولی سے افیسر نے تھوڑا سا چھیڑ دیا چھیڑا کیا جب انہوں نے رعب داب  کے ساتھ اپنا پاسورٹ  دکھایا اور اپنا تعارف کرایا کہ میں فلانی فلانی عظیم الشان پارٹی کا سربراہ ہوں تو امیگریشن کے اہلکار  نے اپنے ساتھ کھڑے اپنے دوست سے کہا یہ بھی جواد احمد ٹائپ کی کلاس ہے
جواد احمد گلوکار  بھی ایک بہت بڑی میرا مطلب ہے بہت ہی بڑی سیاسی پارٹی کے رہنما ہیں اور ہماری بھی ان سے محبت صرف اسی لیے ہے کہ وہ عمران خان کے مخالف ہیں
لیکن اب چاہے اقرار الحسن ہوں یا جواد احمد ہوں دونوں نے سیاسی پارٹیاں بنا لی ہیں یا ان سے بنوائی گئی ہیں تو شاید اسی فارمولے کے تحت بنائی گئی ہیں کہ جیسا کہ  کئی کئی کئی سال پہلے ایک انہی کی کیٹیگری کے ایک مشہور ترین کھلاڑی کو منتخب کر لیا گیا تھا اور پھر اپنی پوری طاقت لگا کے 10 12 سال میں اس کو دولہا بنا کے اقتدار دلوایا گیا اور پھر سوا سال بعد اندازہ ہو گیا کہ یہ اس کے بس کا کام نہیں ہے اور پھر اس کو کسی نہ کسی طرح سے رخصت کیا گیا اور رخصت ان کے گلے میں پڑی ہوئی ہے ابھی تک
اب کیونکہ ہمارے بزرج مہر سمجھتے ہیں کہ اگر اڈیالے میں رہنے والے کو نوجوانوں کی مقبولیت حاصل ہے تو اس کے لیے ہمیں نوجوانوں میں سے کچھ نئی قیادت نکالنی چاہیے اور ان کی نگاہ میں اقرار الحسن اور جواد احمد جیسے لوگ ہیں جو کہ نوجوانوں کو تو چھوڑیں ان کے اپنے ڈرائیور ان کے دھوبی ان کے قصائی ان کے محلے دار ان کے کرایہ دار بھی ان کا راک کبھی نہ سنے ۔
اب جب اقرار الحسن جیسے کہ پیچھے اگر ہمارے بزرج مہروں کی طاقت ہوگی تو وہ تو پاگل ہو جائے گا حالانکہ وہ ایک سیاسی پارٹی کا رہنما ہے بلکہ صدر ہے اور ایک امیگریشن والے نے اگر کچھ مذاق کر بھی دیا ہے اگر کوئی ایسی بات کہہ بھی دی ہے تو اس کا سیاسی انداز میں پیار بھرے انداز میں مفاہمت کے انداز میں جواب دینا چاہیے تھا کہ بھائی کیا ہو گیا ہے میں جواد احمد سے بھی چھوٹا رہنما ہوں۔  یار میں تو معمولی سا سیاسی ادمی ہوں بھائی اس طرح سے کہہ کے اس کو طعنہ  زنی کے ذریعے شرمندہ کیا جا سکتا تھا
لیکن بھائی ابھی تو ان کو پیچھے سے ہاتھ ملا ہے تو ان کی تو طاقت دیکھنے کی تھی انہوں نے جو کلاس لی ہے اس بیچارے معصوم امیگریشن افیسر کی بس ماں بہن کرنی ہی کی کسر رہ گئی ہوگی اور جوش و جذبے میں بار بار فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ کا نام لیا جا رہے ہیں لیے جا رہے ہیں او بھائی اگر انہوں نے تجھے کوئی سیاسی پارٹی بنانے کی اجازت دے دی ہے تو تو اس طرح ایئرپورٹس کے اوپر شور مچاتا رہے گا اس طرح تو صاف ثابت ہوتا ہے ایک بار پھر انہوں نے غلط مہرا منتخب کر لیا ہے ۔ کہ اگر کسی بھی مقصد کے لیے ان کو ہماری بزرج مہرون منتخب کیا ہے تو ان کو فوری طور پر نکال باہر کریں
میں اپنی سیاسی دلچسپی چھپانے والا ادمی نہیں ہوں مجھے عمران خان سے کوئی عشق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان کے ایک حامی نے اگر ایک سیاسی پارٹی کے نام نہاد رہنما  سے کچھ کہہ بھی دیا ہے تو اس سیاسی پارٹی کے عظیم رہنما اقرار الحق کو ہرگز ہی حق حاصل نہیں ہے کہ ایئرپورٹ پہ کھڑے ہو کر سب لوگوں کے سامنے اس طرح ایک معصوم سرکاری افسر کی بےعزتی کرے
اقرار الحسن کی اوقات ہی یہی ہے کہ وہ ویڈیو بنا بنا کے پوسٹ کرتا رہے اور اس نے اپنی ہینڈل کے اوپر یہ پوسٹ کر دی اور اس طرح اپنی گھٹیا پن کا مظاہرہ کر دیا
میں پھر ایک بار اپنے سیاسی بزرج مہروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہاتھ رکھیں تو اب خدا کے لیے کسی ایسی شخصیت پر رکھیں جو واقعی رہنما ہو ایسا نہ ہو کہ جیسا پچھلے کو اڈیالہ جیل میں رو رہے ہو اگے کے لیے کوئی اور تیاری شروع ہو جائے

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *