تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ سے اپنے قد سے بڑا نظر آنے کی کوشش کی ہے، لیکن موجودہ دور کے ’’کنگال ارب پتیوں‘‘ نے تو کامیڈی کے تمام ریکارڈ ہی توڑ ڈالے ہیں۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کرتی دیکھی کہ طبیعت ہنستے ہنستے باغ باغ ہوگئی۔ ایک صاحب ایرانی ریالوں کی گڈیوں کے ایسے پہاڑ پر براجمان تھے کہ دیکھنے والا انہیں کسی ملک کا مرکزی بینک ہی سمجھ بیٹھے۔ تصویر کے نیچے جلی حروف میں فخریہ درج تھا: ’’ارب پتی لائف‘‘۔ اب اسے دیکھ کر ہنسی نہ آئے تو کیا بندہ ماتم کرے؟ یہ وہ شاہانہ لطیفہ ہے جسے دیکھ کر عقل بھی تھوڑی دیر کے لیے چھُٹی پر چلی جاتی ہے۔
یہ تصویر دراصل اس ’’سستی امارت‘‘ کا اشتہار تھی جو آج کل گرتی ہوئی کرنسیوں کی صورت میں بازارِ حسن میں دستیاب ہے۔ ایرانی ریال کی یہ ’’سیٹھ گیری‘‘ بھی کیا کمال کی چیز ہے۔ بندہ نوٹوں کا ہمالہ بغل میں داب کر ایک لمحے کیلئے خود کو وقت کا شہنشاہ سمجھنے لگتا ہے، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ ان ردی کے ٹکڑوں کا جادو دُکان کی دہلیز پار کرتے ہی دم توڑ دیتا ہے۔ یہ وہ نام نہاد شاہانہ زندگی ہے جس کی کل اوقات بازار میں آٹے کے ایک چھوٹے سے تھیلے کے برابر بھی نہیں۔ نوٹوں کے انبار کیساتھ تصویر بنوانا ایسا ہی ہے جیسے بندہ نقلی زیور پہن کر خود کو جوہرِ قابل سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہوجائے۔
اس ’’کنگال ارب پتی‘‘ کا سب سے بڑا مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ اس کے پاس ہندسوں کا لشکر تو موجود ہے، مگر قوتِ خرید کی توپیں بالکل خاموش ہیں۔ سوشل میڈیا کے ان سیٹھ صاحبان کو کوئی سمجھائے کہ جتنے نوٹ وہ سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، اتنے میں تو ہمارے ہاں ایک کپ چائے اور دو بسکٹ ہی نصیب ہوتے ہیں۔ یہ محض معاشی چکر نہیں، بلکہ ایک ایسی کامیڈی ہے جہاں نوٹوں کی حیثیت محض بچوں کے کھلونوں جیسی رہ گئی ہے۔ جب قیمتوں کا پارہ چڑھ جائے تو اِنسان کروڑ پتی ہو کر بھی دُکاندار سے پیاز کے ریٹ پر ایسی بحث کرتا ہے جیسے وہ کروڑوں نہیں بلکہ کوڑیاں گن رہا ہو۔
سماجی ماہرین ٹھیک کہتے ہیں کہ اِنسان فطرتاً چمک دمک کا رسیا ہے، اور جب اُسے سستے داموں ’’ارب پتی‘‘ بننے کا شارٹ کٹ ملے تو وہ اسے ہاتھ سے کیسے جانے دے؟ ایرانی ریال اس وقت دُنیا میں سستی شہرت پانے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔ چند ہزار روپے خرچ کیجیے، لاکھوں ریال سمیٹیے اور پھر ان کے ڈھیر پر لیٹ کر دُنیا کو یہ تاثر دیجیے کہ جیسے آپ نے مریخ پر پلاٹ بک کروا لیا ہو۔ مگر یہ ’’کاغذی شیر‘‘ اس وقت بھیگی بلی بن جاتا ہے جب اسے حقیقت کے بازار میں کسی معمولی ضرورت کے بدلے منوں کے حساب سے نوٹ تول کر دینے پڑتے ہیں۔ یہ امارت نہیں، ایک خوشبودار مذاق ہے۔
اس ’’غریبانہ امیری‘‘ میں نوٹوں کی گنتی بھی کسی باقاعدہ ورزش سے کم نہیں۔ اگر آپ ایک بوری نوٹ لے کر خریداری کے لیے نکلیں تو دُکاندار آپ کو کسی سرکس کا مفرور فنکار سمجھے گا۔ وہاں ادائیگی کرنا کوئی مالی سودا نہیں بلکہ ایک بھرپور مشقت ہے۔ خریدار نوٹوں کے بنڈل گنتے گنتے پسینہ پسینہ ہوجاتا ہے اور آخر میں اُسے پتہ چلتا ہے کہ اِس پہاڑ جیسی محنت کے بدلے اُسے صرف ایک صابن کی ٹکیہ ملی ہے۔ یہ کسی مزاحیہ فلم کا سکرپٹ لگتا ہے جہاں ہیرو کے پاس نوٹوں کے ٹرک تو ہیں، مگر وہ ان سے ایک ٹھنڈی بوتل بھی نہیں خرید سکتا۔ یہ صورتحال واقعی مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
اگر آپ ریالوں سے بھرا بورا بھی اُٹھا کر بازار نکل جائیں، تو ہوٹل کا ویٹر آپ کو ’’سیٹھ صاحب‘‘ پکارنے کے بجائے شاید ہمدردی کی نظر سے دیکھے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کاغذ کے ڈھیر کی کل کائنات ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل پورا کر پائے گی۔ سوشل میڈیا کے یہ ’’ارب پتی‘‘ دراصل ان بے معنی ہندسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے وہ مسافر ہیں جن کے پاس زندگی کا سفر کاٹنے کیلئے بس کا کرایہ تک موجود نہیں۔ یہ وہ نرالی صورتحال ہے جہاں نوٹوں کی تعداد تو بڑھ گئی ہے مگر ان کی قدر مٹی ہوگئی ہے اور بڑے ہندسے محض ایک تماشا بن کر رہ گئے ہیں جس پر صرف مسکرایا ہی جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کی حد تک تو یہ ’’ارب پتی لائف‘‘ بڑی جچتی ہے، لیکن اس کا دوسرا رخ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ جب کوئی سیاح ان ملکوں کا دورۂ کرتا ہے جہاں کرنسی کی قدر گر چکی ہو، تو وہ شروع میں خود کو مغلِ اعظم محسوس کرتا ہے لیکن جلد ہی اُسے احساس ہوتا ہے کہ یہاں کی دولت سے زیادہ تو اُس کے اپنے ملک کے چند سکے وزنی تھے۔ یہ کرنسی نوٹ اب عالمی تجارت کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ صرف ’’فوٹو شوٹ‘‘ کا سامان بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی کاغذی سلطنت ہے جو کیمرے کی آنکھ بند ہوتے ہی عبرت کا نشان بننے کے بجائے خالص مزاح بن جاتی ہے۔
مختصر یہ کہ ’’کنگال ارب پتی‘‘ بننا آج کے دور کا سب سے سستا تفریحی مشغلہ ہے۔ بس آپ کے پاس کسی ایسی معیشت کے نوٹ ہونے چاہئیں جو آخری ہچکیاں لے رہی ہو۔ یہ ’’ارب پتی‘‘ والا ٹیگ صرف ڈیجیٹل دُنیا کی حد تک ہی رہنے دیں، ورنہ حقیقت میں ان نوٹوں کی اوقات اتنی ہے کہ ایک بسکٹ کے بعد دُوسرے کیلئے آپ کو شاید اپنے ’’خزانوں‘‘ کی ایک اور گڈی قربان کرنی پڑ جائے۔ معیشت کا سبق یہی ہے کہ دولت نوٹوں کے انبار میں نہیں، ان کی قوتِ خرید میں ہوتی ہے، ورنہ ردی تو کباڑی کے پاس بھی بہت ہوتی ہے۔ عقل کو ہاتھ ماریں، یہ کاغذی محل صرف تصویروں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔
کنگال ارب پتی از قلم: نجیم شاہ










Post your comments