’’جب وزیر خارجہ یوٹیوبر بن جائے‘‘ از قلم: نجیم شاہ

سفارتکاری کبھی سنجیدگی، برداشت اور تہذیب کا استعارہ تھی، اب لگتا ہے یوٹیوب کے کمنٹس سیکشن میں آ گری ہے۔ جب کسی ملک کا وزیر خارجہ ’’دلال‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرے تو سمجھ لیں کہ لغت مر چکی اور لہجہ زندہ ہو گیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے کیا کہا، سوال یہ ہے کہ کہا کس سطح پر گیا۔ اگر یہی معیار ہے تو پھر سفارتکاروں کو بریف کیس نہیں، رنگ برنگے تھمب نیلز اُٹھا لینے چاہئیں … کم از کم پیشہ تو دیانت سے کریں۔

یہ وہی بھارت ہے جو خود کو تہذیب کا اُستاد اور جمہوریت کا چیمپئن کہتا ہے۔ مگر زبان جب پھسلتی نہیں بلکہ شعوری طور پر گرائی جاتی ہے تو اندر کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ یوٹیوبر بننے میں کوئی برائی نہیں، مگر مسئلہ تب ہے جب ریاستی عہدہ بھی اسی سطح پر اُتر آئے۔ پھر پالیسی نہیں، پبلسٹی بنتی ہے؛ اور سفارتکاری نہیں، سستی شہرت کا تماشا لگتا ہے۔

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جو کردار ادا کیا، اُسے دُنیا نے کم از کم نوٹس تو لیا۔ کسی نے اسے معجزہ نہیں کہا، مگر مکمل مذاق بھی نہیں بنایا۔ عالمی میڈیا نے صاف لکھا کہ پاکستان ایک پل بننے کی کوشش کر رہا ہے … اب جنہیں پلوں سے الرجی ہو، وہ دریا پار کرنے کے لیے چیخ و پکار ہی کرینگے۔ پیغام رسانی بھی ایک فن ہے، اور ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ کا ردعمل کسی سنجیدہ سفارتکار کا نہیں بلکہ اس ناکام کنٹینٹ کریئیٹر کا لگتا ہے جو ویوز نہ آنے پر دُوسروں کو کوسنے لگتا ہے۔ طنز اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دلیل مر جائے۔ اور یہاں دلیل کی میت پر باقاعدہ بین کیا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اتنا ہی غیر متعلق ہے تو پھر اس پر اتنا شور کیوں؟ خاموشی سب سے بڑا جواب ہوتی ہے، مگر یہاں شور ہی شور ہے۔

مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کا المیہ یہ ہے کہ اس میں سمت کم اور ڈرامہ زیادہ ہے۔ کبھی امریکہ کے ساتھ تصویریں، کبھی روس کے ساتھ مسکراہٹیں، کبھی چین کے ساتھ کشیدگی اور پھر اندرونی خاموشی۔ ہمسایوں سے تعلقات ایسے جیسے کسی ضدی بچے کے ہوں … ہر ایک سے ناراض، مگر خود کو عقلِ کل سمجھنے والا۔ یہ خارجہ پالیسی نہیں، جذباتی اُتار چڑھاؤ کا چارٹ ہے۔

بھارت کے اندر بھی سوال اُٹھ رہے ہیں۔ اپوزیشن کھل کر پوچھ رہی ہے کہ آخر یہ کونسی حکمت عملی ہے جس میں دوست کم اور فاصلے زیادہ ہو رہے ہیں۔ چین کیساتھ سرحدی تنازع نے جو حقیقت دِکھائی، وہ اب تک دھندلا نہیں سکی۔ مغرب کیساتھ تعلقات بھی وقتی مفادات کے گرد گھومتے ہیں، مستقل اعتماد کے گرد نہیں۔ ایسے میں اگر کوئی دُوسرا ملک ثالثی کرے تو جلنا فطری ہے، مگر زبان کا جنازہ نکال دینا غیر فطری۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خامیاں ضرور ہیں، مگر اس میں ایک چیز واضح ہے: توازن کی کوشش۔ امریکہ سے بھی بات، چین سے بھی تعلق، ایران سے بھی رابطہ اور خلیجی دُنیا سے بھی رشتہ۔ یہ آسان نہیں، یہ رسّی پر چلنے کا کھیل ہے۔ اور جو گرنے کے باوجود دوبارہ چلنے کی ہمت کرے، اُسے کم از کم پتھر نہیں مارے جاتے۔ یہاں تو پل بنانے والے پر اینٹیں برسائی جا رہی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کیا کر رہا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کیا نہیں کر پا رہا۔ جب آپ خود کوئی کردار ادا نہ کر سکیں تو دُوسروں کے کردار پر طنز آسان ہو جاتا ہے۔ مگر طنز سے حقیقت نہیں بدلتی۔ زبان کی گندگی وقتی تالیاں تو لے آتی ہے، مگر سنجیدہ حلقوں میں وقعت کم کر دیتی ہے۔ سفارتکاری میں الفاظ کرنسی ہوتے ہیں، اور یہاں کرنسی جعلی لگ رہی ہے۔

آخر میں بات وہی پرانی مگر سچی: دُنیا اُن کو یاد رکھتی ہے جو آگ بجھاتے ہیں، نہ کہ وہ جو تیل ڈال کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ اگر وزیر خارجہ واقعی یوٹیوبر بننا چاہتے ہیں تو کم از کم کمنٹ سیکشن کی سطح سے اُوپر اُٹھیں۔ کیونکہ ریاستیں ویوز سے نہیں، وژن سے چلتی ہیں۔ اور جہاں وژن ختم ہو جائے، وہاں باقی صرف شور رہ جاتا ہے … اور شور کبھی تاریخ نہیں بنتا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *