ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران حملوں میں پہل نہیں کرتا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو اپنی سر زمین ایران کے دشمنوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ایرانی فوج کی مرکزی آپریشنز کمانڈ خاتم الانبیاء نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں 500 سے زائد امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔
آپریشنز کمانڈ خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق دبئی میں یوکرین کی اینٹی ڈرون فیکٹری پر حملہ کیا ہے، عرب امارات میں امریکی کمانڈرز اور فوجیوں کی کمین گاہ نشانہ بنائی ہے، دبئی میں امریکی فوجیوں کے 2 مقامات کو نشانہ بنایا، دونوں مقامات پر 500 سے زائد امریکی فوجی چُھپےہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دبئی میں یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے گودام کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا، یوکرینی اینٹی ڈرون سسٹم امریکی فوج کی مدد کے لیے پہنچائے گئے تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق یوکرینی صدر نے آج یو اے ای کا غیر اعلانی دورہ بھی کیا، دورے میں دفاعی تعاون پر اتفاق ہوا۔
لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی افواج شدید حملوں کے بعد اپنے علاقائی اڈوں سے فرار ہو کر دو خفیہ مقامات پر چھپنے پر مجبور ہو گئی، ان میں سے ایک مقام دبئی میں تھا، جہاں 400 سے زائد امریکی اہلکار موجود تھے، جبکہ دوسرے مقام پر 100 سے زیادہ فوجی موجود تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات کو اسلامی پاسداران انقلاب فورس کی ایرو اسپیس فورس اور بحریہ نے درست نشانے والے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کافی بھاری نقصان ہوا اور کئی گھنٹوں تک ایمبولینسز امریکی فوجیوں، بشمول کمانڈرز، کو منتقل کرتی رہیں۔
آپریشنز کمانڈ خاتم الانبیاء نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی فوجی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطہ امریکی فوجیوں کے لیے ’قبرستان‘ بن سکتا ہے اور ان کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
ایک اور بیان میں اسلامی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ خلیج فارس میں 6 امریکی ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں، جس میں امریکا اور اسرائیل پر ایران کی اعلیٰ قیادت، بشمول آیت اللّٰہ علی خامنہ سمیت دیگر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد اس کی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور اسرائیلی اہداف کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے۔










Post your comments