مشرق وسطیٰ سے باہر امریکی اثاثے ایران کا ممکنہ ہدف

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج نے امریکا کے ساتھ تنازع بڑھنے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے باہر امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایرانی حکومت کے قریبی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق ایران کا تنازع کی شدت بڑھنے پر مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی افواج نے جنوب مشرقی یورپ، بشمول بلغاریہ میں امریکی فوجی اثاثوں پر ممکنہ حملوں کا جائزہ لیا ہے، قبرص کو بھی مزید امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں ممکنہ ہدف کے طور پر زیرِ غور لایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز میں خلل ڈالنے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیا جا چکا ہے۔

ایرانی ذرائع کا فنانشل ٹائمز سے بات چیت میں کہنا ہے کہ ایرانی جوابی کارروائی کی نوعیت اور شدت کا انحصار امریکا کے اقدامات پر ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ ظاہر کرنے والا متنازع نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا، جس پر ایران کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نقشہ پوسٹ کیا جس میں تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو نئے امریکی علاقے کے طور پر ظاہر کیا گیا۔

ٹرمپ کی جانب سے نقشہ شیئر کیے جانے کو ان سابقہ بیانات سے بھی جوڑا جا رہا ہے جن میں امریکی صدر نے آبنائے ہرمز پر بحری ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنے کی بات کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی 13 اپریل سے نافذ ہے، تاہم جون میں اسے عارضی طور پر ختم کیا گیا تھا اور اگلے ماہ دوبارہ بحال کر دیا گیا۔

ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر امریکی کنٹرول میں نہیں، تاہم نقشے کے ذریعے اسے امریکی علاقہ ظاہر کرنا امریکی صدر کی ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب ناقدین نے امریکی پالیسی اور جوہری ہتھیاروں سمیت دیگر معاملات پر واشنگٹن کے دہرے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک بحری ناکہ بندی ختم، خطے میں جاری جنگیں بند، ایران کے مبینہ چوری کیے گئے اثاثے واپس، تیل پر عائد پابندیاں ختم اور ایران کے خلاف فوجی دھمکیاں بند نہیں کی جاتیں۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کی غلط فہمی جلد دور کر دیں گے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ایران نے امریکا کو طنزیہ جواب دیتے ہوئے کیلیفورنیا کو ایرانی علاقہ قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیتے ہوئے نقشہ جاری کیا تھا۔

ٹرمپ کی پوسٹ کے ردِعمل میں بھارتی شہر حیدرآباد میں ایرانی قونصل خانے نے امریکا کا نیا نقشہ جاری کر دیا، جس میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق کیلیفورنیا اور خصوصاً لاس اینجلس میں ایرانی نژاد افراد کی بڑی تعداد مقیم ہے، اس لیے غیر رسمی طور پر ایرانی کمیونٹی اس کو تہرانجلس بھی کہتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ ظاہر کرنے والا متنازع نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نقشہ پوسٹ کیا جس میں تیل کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو نئے امریکی علاقے کے طور پر ظاہر کیا گیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *