اسلام آباد کو نیا وفاقی یونٹ بنانے کی تجویز، 13عالمی دارالحکومتوں کا جائزہ

 اسلام آباد کو نیا وفاقی یونٹ بنانے کی تجویز، 13عالمی دارالحکومتوں کا جائزہ ،احسن اقبال کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے واشنگٹن، برلن، ٹوکیو، پیرس، سیول ، نئی دہلی و دیگر حکومتی ماڈلز کا مطالعہ کیا۔کمیٹی نے مرکز اور دارالحکومت کے تعلقات کے لیے مستحکم نظام، روزمرہ شہری امور کو سیاسی عدم استحکام سے محفوظ رکھنے پر زور دیا۔ بہترین کارکردگی والے دارالحکومت شفافیت، کارکردگی، شہری شرکت اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اصولوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی اور وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے 13 بین الاقوامی دارالحکومتوں اور ان کے متعلقہ طرزِ حکمرانی کا جائزہ لیا ہے تاکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ () کے حوالے سے سفارشات کو حتمی شکل دی جاسکے، جس میں ایک اور وفاقی اکائی قائم کرنے کا رجحان بھی شامل ہے۔اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی سفارشات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں واشنگٹن، برلن، سنگاپور، اوٹاوا، ٹوکیو، پیرس، کوپن ہیگن، اسٹاک ہوم، کینبرا، کوالالمپور، سیول، نئی دہلی اور کھٹمنڈو سمیت 13 بین الاقوامی دارالحکومتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی ایک وفاقی ضلع ہے جہاں مقامی طور پر منتخب میئر اور کونسل موجود ہیں، تاہم حتمی اختیار امریکی کانگریس کے پاس رہتا ہے، جو شہر کے بجٹ کی منظوری دیتی اور مقامی قوانین کو مسترد کرسکتی ہے۔ ضلع جائیداد، فروخت اور آمدنی پر عائد ٹیکسوں کے ذریعے محصولات جمع کرتا ہے، سخت مالی نگرانی کے تحت کام کرتا ہے اور مقامی پالیسی سازی میں شفافیت اور شہری شرکت کی مضبوط روایت کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس ماڈل کی خوبیوں میں مالی اور قانونی نگرانی کی بلند سطح، مضبوط ضابطہ جاتی نظام اور عوامی سطح پر فعال شرکت شامل ہیں، جو مالی نظم و ضبط اور جوابدہی کو فروغ دیتے ہیں۔ تاہم اس کے چیلنجز میں محدود حتمی خودمختاری اور کانگریس کا کنٹرول شامل ہے، جو مقامی ترجیحات کو محدود کرسکتا ہے اور شہریوں میں جمہوری فقدان کا تاثر پیدا کرسکتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *