چین کے سینٹر فار گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان مل کر سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کراسکتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب میں وکٹر گاؤ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں چین کو بھی شامل کرکے اسے مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق سیمینار میں شرکت باعث اعزاز ہے، پانی کی فراہمی روکنے کی دھمکی دینا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
چینی سینٹر فار گلوبلائزیشن کے نائب صدر نے مزید کہا کہ ایک سال قبل بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کو روکنے کی دھمکیاں دینا شروع کیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیں گے، جنگ کے دوران بھی کروڑوں لوگوں کے لیے پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے یہ بھی کہا کہ میں نے اس وقت بھی بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ ایسا ہرگز نہ کرے، بھارت سےکہوں گا کہ دوسروں کے ساتھ وہ نہ کرو جو تم نہیں چاہتے کہ دوسرے تمہارے ساتھ کریں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ سال بھارتی ٹی وی پر انٹرویو میں بھی کہا تھا پاکستان ہی نہیں بھارت بھی ڈاؤن اسٹریم پر ہے، دوسروں کے ساتھ وہ نہ کرو جو تم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ ہو۔
چینی سینٹر فار گلوبلائزیشن کے نائب صدرکا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جانا چاہیے، دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے بھارت واحد بالائی ملک نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر چین اور پاکستان باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ کام کریں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں، بھارت کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ میں ذاتی طور پر پاکستانی مقررین کےپیش کردہ مؤقف کی بھرپور حمایت کرتا ہوں، چین اور پاکستان کو اس معاملے پر مکمل تعاون کرنا چاہیے۔
کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت چناب کا پانی بیاس میں نہیں ڈال سکتا۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب میں مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت اگست 2023ء سے معاہدے پر عمل نہیں کررہا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بھی بھارت کو اس بارے میں خط لکھ کر ڈیٹا فراہمی کا کہہ چکے ہیں، بھارت کا یکطرفہ معاہدے کو معطل رکھنا مکمل غیرقانونی اور معاہدےکی خلاف ورزی ہے۔
کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی نے مزید کہا کہ بھارت چناب کے پانی کا رخ موڑ کر 1.9 ملین گیلن پانی کا بہاؤ متاثر کرنے جا رہا ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت چناب کا پانی بیاس میں نہیں ڈال سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے چناب بیاس لنک کی تعمیر مکمل غیر قانونی ہے، معاہدے کے تحت بھارت اس لنک کی پاکستان کو معائنےکی اجازت دینے کا پابند ہے۔
دوران تقریب سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال روکنا ہوگا، ہم ہر علاقائی اور عالمی فورم پر یہ مسئلہ اٹھائیں گے، پانی روک کر بڑی آبادی کو غذائی قلت سے دوچار کرنا عالمی جرم ہے۔
روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ بھارت کا پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کا بیان عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے، پاکستان کی 90 فیصد سے زائد زراعت دریاؤں کے پانی پر منحصر ہے، جبکہ پاکستان کے 21 بڑے پن بجلی منصوبے دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہیں۔
ڈاکٹر روکسولانا زیگون کے مطابق بھارت پانی کے بہاؤ میں رد و بدل کر کے پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ پاکستان دریائے چناب میں غیر معمولی پانی کے بہاؤ پر بھارت کو کئی احتجاجی خطوط بھی لکھ چکا ہے۔
روسی ماہر کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام بڑھا سکتی ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی اور پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے، جبکہ مستقل انڈس کمیشن تنازعات کے حل کا ایک اہم اور مؤثر فورم ہے۔
ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ بھارت کی یکطرفہ پالیسیاں بین الاقوامی اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جبکہ جنوبی ایشیاء کے امن و استحکام کے لیے سندھ طاس معاہدے کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنا ایک خطرناک اقدام ہو گا، کیونکہ پاکستان کی تقریباً پوری آبادی کسی نہ کسی صورت دریائے سندھ کے نظام سے منسلک ہے، پانی پر تعاون ہی خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔
روسی ماہر نے بھارتی وزیر کے اس بیان کو بھی غیر قانونی قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملے گا۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے، کسی کو علاقائی اور عالمی امن یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے، پاکستان میں بڑے طبقے کا ذریعہ معاش زراعت ہے، اصل مسئلہ پانی کو کنٹرول کر کے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اس سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلادیش کے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں، دریائے نیل ہو یا فرات، ہر جگہ اسی قسم کی کہانیاں ہیں، پاکستان، افریقا یا بنگلادیش ہر جگہ ایک جیسی کہانیاں ہیں، بھارت ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول ہی نہیں کرتا بلکہ دنیا کا تیسرا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے، 6 ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے، یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان 3 جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت بہت واضح فیصلے دے چکی، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر پانی کے ذخائر نہیں بنا سکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے بھی انکاری ہے، اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کے ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکا جائے گا۔
سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ بھارتی رویہ پاکستان ہی نہیں پورے بین الاقوامی نظام کےلیے خطرناک مثال ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر سیمینار سے خطاب میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ اگر بھارتی رویے کا نوٹس نہ لیا گیا تو آج پاکستان کل دوسرے ہمسائے بھی متاثر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ پورےبین الاقوامی نظام کے لیے خطرناک مثال ہے، مستقل ثالثی عدالت واضح کرچکی بھارت کو سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل یا ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی نظام میں اصول وضع کرنے والا ملک اور یواین سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے، خود کو عالمی قوانین کا محافظ کہلوانے کی خواہش والا ملک آج عالمی قانون شکن بن چکا ہے۔
حنا ربانی کھر نے مزید کہا کہ کوئی ملک کس طرح کھلے عام ایک پوری تہذیب کو مٹانے کے عزائم کا اظہار کرسکتا ہے، سندھ طاس معاہدے میں واضح ہے معاہدے کی شقوں میں تبدیلی دونوں ممالک کی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یکطرفہ معاہدے کو معطل یا ختم کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق ممکن نہیں، عالمی برادری میں باوقار مقام کا خواہاں ملک کبھی بھی عالمی معاہدوں سے یکطرفہ دستبردار نہیں ہوسکتا۔
سابق وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ آج بھارت کو سندھ طاس معاہدےکی خلاف ورزی کی اجازت دی گئی تو کل یہی طرزِ عمل کسی اور ملک کے خلاف بھی اپنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کو تنازع نہیں بلکہ تعاون کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے، بطور وزیر خارجہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی، افسوس کہ بھارت کا رویہ ہمیشہ رکاوٹ بنتا رہا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔
اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزر گاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کو احساس ہو چکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں، دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی پانی کی بندش، آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے، عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے کے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار بن جائے، بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا ضروری ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے، بھارت کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے، اگر پاکستان کے پانی کو روکنا جنگ کے مترادف ہے تو اس کی طرف بڑھنے والا ہر قدم بھی معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کا بطور ہتھیار استعمال کا جواب سیاسی، سفارتی اور قانونی سمیت ہر فورم پر دینا ہو گا، پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو روکنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھاتا رہے اور پاکستان صرف احتجاج تک محدود رہے گا، مؤثر دفاع اسی وقت ممکن ہے جب مخالف فریق یہ جان لے کہ سرخ لکیر عبور کرنے کی اسے کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، یہ کسی گھبراہٹ یا مہم جوئی کی دعوت نہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ یہ وقت ہمیں سنجیدگی، واضح حکمتِ عملی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے حقوق کے دفاع کا مطالبہ کرتا ہے، دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں ہے، دریائے سندھ ایک تہذیب، کروڑوں انسانوں کی زندگی، پاکستان کی معیشت اور اس کے مستقبل کی بنیاد ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جائز اور قانونی اقدام کرے گا۔
















Post your comments