ریاستِ ڈوما، ڈوما کافر کی نسلی حقیقت اور اخوند سالاک تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

تاریخ کا دھارا بعض اوقات بڑی ریاستوں کو محض چند گمنام چوٹیوں اور لوک داستانوں میں سمیٹ دیتا ہے، ایسی ہی ایک ریاست ’’ڈوما‘‘ تھی جو سترہویں صدی تک دریائے سندھ کے کناروں، بونیر، شانگلہ اور تورغر کے دشوار گزار پہاڑوں پر محیط تھی۔ ریاستِ پختونخواہ کے 1520ء کے ایک قدیم نقشے میں اسے ریاستِ ترک ’’ڈوماں کافر‘‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے، جو اِس حقیقت کی ٹھوس دلیل ہے کہ ریاستِ پکھلی کی طرح ڈوما بھی ترکوں کی حمایت یافتہ اور اُن کی حلیف ریاست تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1644ء میں اِس ریاست کے خلاف لشکر کشی ہوئی تو پکھلی سرکار کے ترک ڈوما کی مدد کو پہنچے، جس نے اخوند سالاک کو مغلوں کیخلاف جنگ کے دوران اس اتحاد کو خصوصی نشانہ بنانے پر مجبور کیا۔

ریاستِ ڈوما کا مرکز ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ تھا جو ایک بلند چوٹی پر واقع تھا اور اس کے آخری غیر مسلم بادشاہ کا نام ’’ڈوما سنگ‘‘ تھا، جسے تاریخی روایات میں ’’ڈوما کافر‘‘ کے لقب سے پکارا گیا۔ محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاک جو سترہویں صدی کے عظیم عالم، فقیہہ، صاحبِ تصانیف اور غازی تھے، اُنہوں نے اپنے پیر و مرشد سید عبدالوہاب المعروف اخوند پنجو بابا کے حکم پر اس علاقے میں جہاد اور اشاعتِ دین کا آغاز کیا۔ اِس مہم میں یوسف زئیوں کے نامور سردار بہاکو خان اُن کے شانہ بشانہ رہے، جن کی مشترکہ کوششوں سے ڈوما کے علاقے کو غیر مسلم تسلط سے آزاد کرایا گیا۔ معرکے کے دوران ڈوما سنگ ایک تیر لگنے سے ہلاک ہوا، جبکہ اُس کی ملکہ ’’شنڈی‘‘ اور بیٹی ’’گورجیت‘‘ (اسلامی نام جمیلہ بی بی) قیدی بنیں۔

ڈوما سنگ کی نسلی شناخت کے حوالے سے مؤرخین کی اکثریت نے اسے ’’تاتاری النسل‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ تاتاری قبائل مختلف ادوار میں اِن وادیوں میں حملہ آور بن کر آئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ بعض روایات میں اسے ’’کالاشی حکمران‘‘ بھی لکھا گیا اور بعض نے ہندومت سے تعلق جوڑا، مگر گہری تحقیق اور لسانی شواہد کی روشنی میں قرینِ قیاس یہی ہے کہ ڈوما سنگ کا تعلق دراصل ’’چھلیس خیل‘‘ قوم سے تھا، جو ایک قدیم ’’دارد‘‘ قبیلہ ہے۔ یہ پورا خطہ اس وقت ’’دردستان‘‘ کہلاتا تھا جو چترال سے کشمیر تک پھیلا ہوا تھا۔ کوہستان اور گلگت میں آباد چھلیس خیل کی ذیلی شاخیں آج بھی ڈوما سنگ کو اپنا جداعلیٰ اور دارد قبائل کا آخری عظیم بادشاہ تسلیم کرتی ہیں۔

ڈوما سنگ کی نسل اُس کے دس بیٹوں سے آگے بڑھی جن میں بچے، پشے، لشرے، کھیروے، دم سنگ، مینتہ، شانرہ، نسرہ، ڑگر اور کھوٹو شامل تھے، جن کے ناموں سے آج بھی متعدد ذیلی قبیلے موسوم ہیں۔ قدیم زمانے میں یہ پورا علاقہ ’’کافرستان‘‘ کا حصہ سمجھا جاتا تھا جہاں کے باشندے اپنی مخصوص تہذیب اور جنگجویانہ مزاج کے باعث مشہور تھے۔ اخوند سالاک جیسے جلیل القدر بزرگ کی تبلیغ اور جہادی مساعی نے نہ صرف ڈوما کی سیاسی حیثیت کو ختم کیا بلکہ یہاں کے لوگوں کے دلوں میں اِسلام کی ایسی شمع روشن کی کہ صدیوں گزرنے کے بعد بھی یہ خطہ اسلامی تعلیمات کا گہوارہ ہے۔ ڈوما تاتاری نہیں بلکہ ایک قدیم دارد قبیلے کا آخری حکمران تھا۔

تاریخی دستاویزات کے مطابق ریاستِ ڈوما کا جغرافیہ انتہائی دشوار گزار تھا جس نے اسے بیرونی حملوں سے طویل عرصے تک محفوظ رکھا۔ یہ علاقہ قدیم دور میں ’’دارد‘‘ تہذیب کا گڑھ تھا اور قدیم نقشہ جات میں اسے ’’ڈوماں کافر‘‘ لکھنا اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ یہاں کا حکمران طبقہ اگرچہ ترکوں کا حلیف تھا، مگر مذہبی طور پر وہ اپنے قدیم عقائد پر قائم تھا۔ اخوند سالاک نے جب اس قلعے کی دیواروں تلے جہاد کا پرچم بلند کیا تو یہ معرکہ حق و باطل کی کشمکش کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا، جس نے مغلوں کے زیرِ اثر پکھلی کے ترکوں اور ڈوما کافر کے اس قدیم دفاعی گٹھ جوڑ کو ہمیشہ کے لیے توڑ کر رکھ دیا۔

ڈوما کافر کی ہلاکت کے بعد اس کے خاندان اور ریاست کا نظم و ضبط بکھر گیا، مگر اس کی نسل نے کوہستان، چترال اور گلگت کے دشوار گزار پہاڑوں میں اپنی بقا کو یقینی بنایا۔ محققین کا خیال ہے کہ تاتاریوں کا نام اس قبیلے کے ساتھ محض اِس لیے جڑا کہ وہ جنگجو صفت تھے، ورنہ لسانی بنیادوں پر چھلیس خیل ہونا ہی اُن کی اصل پہچان ہے۔ ڈوما کی بیٹی گورجیت (جمیلہ بی بی) اور ملکہ کی قید کے بعد کی زندگی بھی تاریخ کا حصہ بنی۔ ڈوما ریاست کا خاتمہ دراصل اس وسیع تر اصلاحی تحریک کا حصہ تھا جس کا مقصد پورے دردستان کو ظلمت سے نکال کر نورِ اسلام سے آشنا کرنا اور اس دشوار گزار خطے کو ایک نئی شناخت دینا تھا۔

اخوند سالاک کی شخصیت اس پورے منظرنامے میں ایک درخشندہ ستارے کی مانند ہے۔ وہ صرف ایک سپہ سالار نہیں تھے بلکہ ایک ایسے صوفی منش بزرگ تھے جنہوں نے تلوار کے ساتھ ساتھ علم و حکمت سے بھی دلوں کو فتح کیا۔ اُن کی تصانیف اور فقہی بصیرت نے کوہستان کے نو مسلم قبائل کو اسلام کی ٹھوس اساس فراہم کی۔ اُن کی جہادی مہمات کا دائرہ کار ہزارہ، چترال اور گلگت تک وسیع ہوا۔ ڈوما کی فتح کے بعد اُنہوں نے نغرشو کافر اور بیرا کافر جیسے طاقتور سرداروں کو شکست دے کر توحید کا پرچم بلند کیا۔ حضرت اخوند سالاک سترہویں صدی کے وہ عظیم مصلح تھے جنہوں نے علمی و عسکری قوت سے اس خطے کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔

آج جب ہم کوہستان اور سوات کے پہاڑوں کو دیکھتے ہیں تو ڈوما کا نام صرف چند مقامی روایات تک محدود رہ گیا ہے، مگر تاریخی اعتبار سے اس کی اہمیت مسلم ہے۔ یہ ریاست ترکوں، تاتاریوں اور دارد قبائل کے ایک پیچیدہ تاریخی امتزاج کا نمونہ تھی۔ ڈوما سنگ کو ایک تاریخی حقیقت کے طور پر دیکھنا ضروری ہے جس نے اپنی ریاست کے دفاع کے لیے ترکوں کی حمایت حاصل کی تھی۔ اخوند سالاک اور بہاکو خان کی فتح نے نہ صرف اس ریاست کا خاتمہ کیا بلکہ اس خطے کو ایک نئی شناخت دی، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ڈوما سنگ کی داستان دیرکوہستان، سوات کوہستان اور انڈس کوہستان سے لے کر چترال اور گلگت تک کے سینوں میں آج بھی محفوظ ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *