ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امارات پر ایران سے میزائل داغے جانے سے متعلق یو اے ای کا بیان مسترد کر دیا۔
اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
اس سے پہلے امارتی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ایران سے 2 بیلسٹک میزائل کئے گئے ہیں۔
امارتی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ دونوں میزائل سمندر میں جا گرے، دونوں میزائل سمندری ٹریفک کو نشانہ بنا رہے تھے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی معاملات تاحکمِ ثانی معطل کر دیے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فیصلہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی و کاروباری اور مالی معاملات تاحکمِ ثانی معطل کر دیے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہےکہ ایران سے تمام تجارت، کمرشل تبادلے اور اقتصادی ٹرانزکشنز روک دی گئی ہیں۔
یو اے ای وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کشیدگی علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ وہ دنیا کو خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کے عالمی نظام میں خوش آمدید کہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر ردعمل میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکا میں آبنائے ہرمز کھولنے کی صلاحیت نہ رکھنے اور اسکی ملکیت کا دعویٰ کرنے میں جو خلا ہے وہ اُس سوا گیارہ ہزار کلومیٹر فرق سے بھی زیادہ ہے جو واشنگٹن اور آبنائے ہرمز کے درمیان ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے۔
خادم الحرمین الشرفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل اور فعال ہونے کا خیرمقدم کیا گیا۔
سعودی کابینہ کے اجلاس میں کمرشل بحری جہازوں اور ٹینکروں پر بار بار ایرانی حملوں کی سخت مذمت کی گئی۔
سعودی کابینہ نے کہا کہ یہ حملے بحری سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔















Post your comments