امریکا نے اردن سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

امریکی فوج نے اردن میں موافق سلطی ایئربیس سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق منتقل کیے جانیوالے ہیلی کاپٹروں میں وہ ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو امریکا کے خلاف منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی میں تباہ ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران نے اردن میں امریکی ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاسداران انقلاب نے چابہار سے بحیرہ عرب کے کچھ حصوں تک سمندری حدود محدود کرنے کا اعلان کردیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ چابہار سے خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب کے بعض حصوں تک ایک بحری محدود علاقہ قائم کیا جائے گا، تاہم اس علاقے کی درست حدود اور جغرافیائی نقاط بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

ترجمان پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران سے رابطے کے بغیر محدود علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور آبنائے ہرمز کے اطراف سمندری آمدورفت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا تھا کہ ایران آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے باہر ایک محدود بحری زون قائم کرے گا۔

چابہار ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں خلیجِ عمان کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہ ہے اور براہِ راست بحرِ ہند تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

تازہ پیش رفت خطے میں پہلے سے موجود بحری کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پہلے ہی شدید متاثر ہے۔

ایران کی جانب سے اردن میں قائم امریکی ایئر بیس پر حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق مؤفق السلطي ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران وارٹ ہاگ کہلانے والا ایک A-10 تھنڈر بولٹ طیارہ حملے کی زد میں آیا اور اس کا ایک بازو ضائع ہو گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی حملے میں تقریباً آٹھ F-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم انہیں مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں شامل کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا درجنوں جنگی طیاروں کو موافق السلطی ایئر بیس سے آپریٹ کرتا ہے، مذکورہ ایئر بیس امریکا کی ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے ایک اہم فضائی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے اردن میں موافق السلطی ایئر بیس پر حملے کے نتیجے میں فوجی طیاروں کو نقصان پہنچنے کے بعد انہیں وہاں سے منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے رواں ہفتے کے اوائل میں 5 ایرانی ٹینکرز پر حملہ کیا، اس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں متعدد امریکی اڈوں اور اتحادی تنصیبات پر حملے کیے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *