چالیس ہزار پاؤنڈ کی بے بسی از قلم: نجیم شاہ

برطانوی حکومت کی اِس حالیہ اسکیم کے تناظر میں، جس کے تحت بعض پناہ گزینوں کو رضا کارانہ واپسی کے بدلے چالیس ہزار پاؤنڈز کی پیشکش کی گئی، اور جس کے بارے میں ایک ماہ گزرنے کے باوجود نتائج سامنے نہیں آئے، سوال یہ ہے کہ یہ کیسا تماشا ہے کہ یہ خطیر رقم بھی اِنسان کے اِرادے کو خرید نہ سکی؟ بات سیدھی سی ہے مگر ہم سیدھی بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ مسئلہ پیسے کا نہیں، ترجیحات کا ہے؛ معاملہ نوٹوں کا نہیں، نفسیات کا ہے۔

جو لوگ سمندروں کی موجوں سے لڑ کر، اسمگلروں کے پنجوں سے بچ کر اور موت کے منہ سے نکل کر برطانیہ پہنچے ہیں، اُن کے لیے یہ رقم محض ایک ہلکی سی جھلک ہے، کوئی منزل نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو وقتی آسائش نہیں بلکہ دائمی تحفظ خریدنے نکلے تھے۔ اُن کے فیصلوں کی بنیاد وقتی فائدہ نہیں بلکہ ایک مستقل اور محفوظ مستقبل کی تلاش ہوتی ہے، جس کے لیے وہ ہر طرح کی قربانی دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، چاہے اس کے لیے اُنہیں اپنی زندگی کے سب رشتے اور یادیں چھوڑنی پڑیں۔

ہم بار بار یہ بھول جاتے ہیں کہ ہجرت محض جغرافیہ بدلنے کا نام نہیں، یہ ایک ذہنی انقلاب ہوتا ہے۔ جو شخص اپنا گھر، اپنی مٹی، اپنے رشتے اور اپنی پہچان چھوڑ دیتا ہے، وہ چند ہزار پاؤنڈز کے لیے نہیں چھوڑتا۔ وہ ایک ایسی دُنیا کی تلاش میں نکلتا ہے جہاں قانون زندہ ہو، انصاف دستیاب ہو اور مستقبل قابلِ پیش گوئی ہو، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ایک محفوظ ماحول میں سانس لے سکیں اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہ ہوں۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ہم انسان کو اکاؤنٹنگ کے فارمولے سے ناپنے لگے ہیں، جیسے انسان کوئی بیلنس شیٹ ہو جس میں ڈیبٹ اور کریڈٹ برابر کر دیے جائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اُس کا خوف اور اُس کی اُمید ہوتی ہے۔ خوف اُسے بھگاتا ہے اور اُمید اُسے آگے لے جاتی ہے، اور یہی دو قوتیں اُس کے ہر بڑے فیصلے کی بنیاد بنتی ہیں، خواہ وہ کس حد تک خطرناک حالات میں کیوں نہ ہوں۔

اِن پناہ گزینوں کے پیچھے کہانیاں ہیں، اعداد و شمار نہیں۔ کہیں جنگ کی آگ ہے، کہیں آمریت کی گھٹن، کہیں غربت کا عذاب اور کہیں انسانی وقار کی تذلیل۔ ایسے میں واپس جانا محض واپسی نہیں بلکہ خود کو دوبارہ اسی دوزخ میں جھونک دینا ہے، جس سے نکلنے کے لیے وہ سب کچھ چھوڑ آئے تھے اور جس کی یادیں اب بھی اُن کا پیچھا نہیں چھوڑتیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ خطیر مالی پیشکش کے باوجود اسے مسترد کر دیتے ہیں۔

برطانیہ کی کشش بھی کوئی معمولی چیز نہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں علاج مفت، تعلیم معیاری اور قانون نسبتاً غیر جانبدار ہو — یہ سب کچھ ایک ایسی دُنیا کے لیے خواب ہے جہاں ہسپتال میں داخلہ بھی سفارش سے ملتا ہو اور انصاف بھی طاقتور کی جیب میں پڑا ہو۔ یہی وہ فرق ہے جو کسی مالی پیشکش سے پورا نہیں ہو سکتا اور جس کے لیے لوگ ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہو جاتے ہیں، خواہ اِس کے لیے اُنہیں سخت حالات سہنے پڑیں۔

پھر اس اسکیم کی اپنی خامیاں ہیں۔ سات دن میں فیصلہ؟ یہ تو مذاق ہے، سنجیدگی نہیں۔ زندگی کے سب سے بڑے فیصلے جلد بازی میں نہیں ہوتے، خاص طور پر جب ان کا تعلق بقا سے ہو۔ قانونی مشاورت کا فقدان اور غیر یقینی شرائط اِس پیشکش کو مزید مشکوک بنا دیتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اس پر اعتماد قائم نہیں ہو سکا۔ خبریں سامنے آئی ہیں کہ وزیر داخلہ اس امر کی تفصیلات بتانے سے گریزاں ہیں کہ اس اسکیم کو کتنے فیصد لوگوں نے قبول کیا اور کتنوں نے انکار کیا، جبکہ حکومت کی طرف سے کوئی واضح اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

سیاسی سطح پر بھی یہ معاملہ تضادات کا شکار ہے۔ ایک طبقہ اسے انعام سمجھتا ہے اور دُوسرا جبر، جس کے باعث یہ پالیسی خود اپنی ساکھ کھو بیٹھتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی پناہ کے متلاشیوں نے اِس خطیر نقد پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا ہے تو پناہ کے نظام کے لیے یہ ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہوگا، اور یہ اِس بات کی کھلی دلیل ہے کہ تارکین وطن اب ہر صورت برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں، اور اسکیم کی اصل ناکامی اسی حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے۔

برطانوی ہوم آفس کی کارکردگی بھی کسی راز سے کم نہیں۔ برسوں تک کیسز لٹکے رہتے ہیں، قیام طویل ہوتا جاتا ہے اور نظام اپنی ہی سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پناہ گزین یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید یہی عارضی حالت مستقل بن جائے۔ آخر میں بات وہی ہے کہ اِنسان کو خریدا نہیں جا سکتا، خاص طور پر وہ اِنسان جس نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہو — یہ مسئلہ مالی نہیں بلکہ اِنسانی ہے، اور جب تک پالیسی میں اِنسان کو مرکز میں نہیں رکھا جائے گا، ایسے تمام منصوبے محض کاغذی مشق ہی رہیں گے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *