امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد جوابی کارروائی کے خوف سے بڑی تعداد میں اسرائیلی ملک چھوڑ کر جانے لگے، متعدد مسافروں کو ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ بن گورین ایئرپورٹ پر ہنگامہ آرائی ہوئی اسرائیل چھوڑ کر جانے والے متعدد مسافروں کو ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔
اسرائیلی شہریوں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی حکام میں تلخ کلامی ہوئی، ایئرپورٹ سے انتہائی محدود تعداد میں اسرائیلیوں کو جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد 29 ہزار 247 افراد اسرائیل سے زمینی راستوں کے ذریعے باہر گئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اہم بیان میں کہا ہے کہ جو ملک اسرائیلی و امریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کرسکتا ہے۔
جاری کردہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان ممالک کو کل سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آئل ٹینکرز کے اسٹاف کو جان کا خطرہ مول لے کر آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آئل ٹینکرز کو جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیے، اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہيں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ترک ہم منصب اردوان سے گفتگو کی۔ اس موقع پر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ترکیے پر ایرانی میزائل حملے کے الزام کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کیلئے ایران اور ترکیے کی مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کو تیار ہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ نیٹو ایئر ڈیفنس نے ترکیے کی فضائی حدود میں ایک اور میزائل مار گرایا۔
ایران میں مُجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد اسرائیل نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے ان کی اور آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی کلاشنکوف تھامے تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں محاورتاً لکھا ’جیسا باپ ویسا بیٹا‘۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مُجتبیٰ خامنہ ای کے ہاتھ پہلے ہی اس خونریزی سے رنگے ہوئے ہیں جو ان کے والد کے دورِ حکومت کی پہچان تھی۔ اب ایک اور آمر ایرانی حکومت کی بربریت کو جاری رکھنے کے لیے سامنے آ گیا ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کو جنگ کے پہلے دن قتل کیا تھا۔ وہ 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے۔
اسرائیلی حکام پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے تھے کہ اگر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بعد کوئی نیا رہنما سامنے آیا تو اسے بھی ممکنہ ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کردیا گیا ہے، ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔











Post your comments