ایران جنگ کے دوران پاکستان کی سعودیہ میں 8 ہزار فوجی اور جنگی طیاروں کی تعیناتی، ڈرونز اور ایچ کیو9ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم، مقصد معاہدے کے تحت ریاض کے دفاع کو مضبوط بناناہے، پاکستانی اہلکار تمام آلات خود چلا رہے ہیں ، مالی معاونت سعودی عرب کر رہا ہے، مزید فوجیوں کی تعیناتی بھی ممکن ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران جنگ کے دوران سعودی عرب میں 8 ہزار فوجی، جنگی طیاروں کا ایک اسکواڈرن، ڈرونز اور ایچ کیو-9 ایئر ڈیفنس سسٹم تعینات کیا ہے، جس کا مقصد معاہدۂ دفاع کے تحت ریاض کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس قدام کی تین سکیورٹی اہلکاروں اور دو حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ممالک کی حکومتوں نے اس پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق اس تعیناتی میں تقریباً 16 جے ایف-17 طیارے اور دو ڈرون اسکواڈرن شامل ہیں جبکہ پاکستانی اہلکار تمام آلات کو خود چلا رہے ہیں اور اس مشن کی مالی معاونت سعودی عرب کر رہا ہے۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک سعودی دفاعی تعاون کو علاقائی تنازع سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔
مغربی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں اور لڑاکا طیاروں کی تعیناتی سے متعلق حالیہ رپورٹنگ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر گمراہ کن انداز میں پیش کیا گیا، جس سے پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی اور تزویراتی تعلقات کی اصل روح مسخ ہوئی ہے۔
پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کوئی وقتی یا ردعمل پر مبنی اتحاد نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ایک شفاف، ادارہ جاتی اور باہمی اعتماد پر مبنی شراکت داری ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ مذہبی، ثقافتی، سماجی، سیاسی اور معاشی بنیادوں پر قائم ہیں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود دونوں ممالک کا تعاون مستقل اور مستحکم رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے لیے سعودی عرب کا دفاع اور سلامتی حرمین شریفین کے تقدس سے جڑی ہوئی ہے اور پاکستانی عوام و افواجِ پاکستان کو ان مقدس مقامات کے تحفظ میں اپنے تاریخی کردار پر فخر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وابستگی محض سفارتی یا عسکری مفادات تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستانی قوم کے ایمان اور جذبات کا حصہ ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور دفاع کے حوالے سے ہر تعاون پہلے سے موجود رسمی دفاعی فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق فوجی تعیناتیاں، مشترکہ مشقیں اور دفاعی تعاون کے اقدامات مکمل طور پر دفاعی اور استحکامی نوعیت کے حامل ہیں، جنہیں کسی مخصوص علاقائی تنازع سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔














Post your comments