آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کے ذمے دار امریکا، اسرائیل اور ایران پر حملوں میں شریک ممالک ہیں: ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کے ذمے دار امریکا، اسرائیل اور ایران پر حملوں میں شریک ممالک ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار سلامتی غیر ملکی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کا انتظام اسلام آباد میمورنڈم کے آرٹیکل 5 کے مطابق کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے مطابق خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین مستقبل میں ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے 25 جون کو امریکی وزیر خارجہ اور جی سی سی کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کو مداخلت پسند، غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیاں خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دیتی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کے بحری ادارے نے پھنسے ہوئے جہازوں کے انخلا کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئی ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور فی بیرل قیمت 74.89 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً 3 فیصد زیادہ ہے۔

واقعے کے بعد ایشیائی حصص بازار بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں، جاپان اور جنوبی کوریا کی بڑی منڈیوں میں 3 فیصد سے زائد جبکہ ہانگ کانگ اور تائیوان کی منڈیوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے اس لیے تازہ حملے نے خطے میں بحری نقل و حمل اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *