رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے آج پیش کیا جائے گا، دستاویز کے مطابق رواں مالی سال زیادہ تر معاشی اہداف حاصل نہ ہوسکے، جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی، ہدف 4.2 فیصد تھا، فی کس آمدن کا سالانہ ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔
پاکستانی کرنسی میں فی کس سالانہ آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے ہوگئی، زراعت اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف پورا نہ ہوسکا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی جبکہ ہدف 4.5 فیصد تھا۔
صنعتی شعبے کی گروتھ 3.51 فیصد رہی، ہدف 4.3 فیصد تھا، بجلی، گیس، واٹر سپلائی گروتھ منفی 10.63 فیصد رہی، ہدف 3.5 فیصد تھا۔
خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.09 فیصد رہی، ہدف 4 فیصد تھا، ریئل اسٹیٹ شعبے میں شرح نمو 3.63 فیصد رہی، ہدف 4.2 فیصد تھا۔ ریئل اسٹیٹ، ہوٹلز، ریسٹورینٹس، ماہی گیری اور مینوفیکچنگ سیکٹرکی گروتھ کے اہداف بھی حاصل نہ ہوسکے۔
تعلیم کے شعبے کی گروتھ 5.23 فیصد رہی، ہدف 4.5 فیصد تھا، صحت، سماجی سرگرمیوں کی شرح نمو 6.86 فیصد رہی، ہدف 4 فیصد تھا۔
انفارمیشن کمیونیکیشن شعبوں کی گروتھ 7.52 فیصد رہی، ہدف 5 فیصد تھا، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں ترسیلات زر 8.5 فیصد اضافے سے 34 ارب ڈالر ہو گئیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں رضاکارانہ طور پر وفاق کی مدد کریں گی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا ترقیاتی بجٹ موجودہ سال کی سطح پر منجمد کریں گی۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ جو اضافی وسائل حاصل ہوں گے تو اُن کے ذریعے ضرورت کو پورا کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی نے موبائل فونز پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں قاسم گیلانی موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کی کمی سے متعلق پلے کارڈ ایوان میں لے آئے۔
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے بھی قاسم گیلانی کا ساتھ دیا اور پلے کارڈ ایوان میں لہرایا۔
ایوان میں لہرائے گئے پلے کارڈ پر ’موبائل فون ضرورت ہے لگژری نہیں‘ کا سلوگن درج تھا۔
قاسم گیلانی کا کہنا تھا کہ موبائل فون لگژری آئٹم نہیں ہے بلکہ ضروت ہے، موبائل فونز تعلیم، کاروبار اور رابطے کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے کہ 180 روز میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کو فائنل کریں گے۔
قومی اقتصادی کونسل اجلاس کے بعد مزمل اسلم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ آج اجلاس میں صوبے کے عوام کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑا۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا تھا، وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ 180 روز میں این ایف سی کو فائنل کریں گے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ این ایف سی کو قبائلی اضلاع کےلیے اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے، تمام صوبے ایوارڈ کی منظوری دیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ صوبوں کا اتفاق رائے نہ ہوا تو پھر سمری وزیراعظم ایوان صدر بھجوائیں گے، گندم کی آزادانہ نقل و حمل پر عمل درآمد کرانا وفاق کی ذمے داری ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ بھی کہا کہ پاسکو کے ساتھ جو معاہدہ ہوا ہے وہ 4150 روپے فی من سے اوپر لے کر جارہے تھے، وفاق نے یقین دہانی کرائی کہ گندم کا ریٹ نہیں بڑھایا جائے گا۔
اس موقع پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ 700 ارب، پنجاب، 200 سندھ نے کم کیا، ہمارا 305 ارب ہے،سیاسی امور پر پیشرفت وقت کے ساتھ ساتھ کی جائے گی۔
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی۔
اجلا سکے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کی اور بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے پی ایس ڈی پی کا حجم 1000ارب روپے رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ای سی نے پی ایس ڈی پی کی منظوری دیدی ہے، اجلاس میں شرکاء کو معاشی ترقی کےلیے برآمدات بڑھانے پر بریفنگ دی گئی۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2018ء میں پی ایس ڈی پی جی ڈی پی کا 2 اعشاریہ 6 فیصد تھا، جو 0 اعشاریہ 6 فیصد پر ا چکا، آیندہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف4 فیصد رکھا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہیومین ریسورس کی ترقی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، پاکستان میں ڈویلپمنٹ ایمرجنسی کی ضرورت ہے، 74 فیصد ریونیو قرص ادائیگی پر جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا بڑا چیلنج ایکسٹرنل سیکٹر ہے، بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کےلیے بیوروکریسی کو تبدیل کرنا ہو گا، یہ بیوروکریسی معاشی ترقی نہیں امن و امان اور ٹیکس وصولی والی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس سہ ماہی بنیادوں پر ہونا چاہیئے، کونسل نے وزارت منصوبہ بندی کی تجویز کی منطوری دی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی ترقیاتی بجٹ 3669 ارب روپے منطور کیا گیا، وفاق کا ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے ہو گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 2218 ارب روپے مختص کرنے کی منطوری دی گئی ہے، فیدرل انٹر پرائز کا ترقیاتی بجٹ451 ارب روپے ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال زرعی شعبے کی گروتھ کا ہدف 3 اعشاریہ 6 فیصد مقرر اور صنعتی شعبے کی گروتھ کا ہدف 4 اعشاریہ 5فیصد منظور کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ خدمات کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 4 اعشاریہ 2 فیصد منظور کیا گیا جبکہ افراط زر کا ہدف 8 اعشاریہ 2 فیصد رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی واٹر سیکورٹی اولین ترجیح ہے،1000 ارب روپے کے پی ایس ڈی پی میں داخلہ اور دفاع کے سوا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہو گا۔
دوران گفتگو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی اقتصادی سروے کل پیش کیا جائے گا۔















Post your comments