امریکی فوج نے گزشتہ شب ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی تازہ کارروائی مکمل کر لی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے مطابق ایران پر مسلسل چھٹی رات بھی امریکی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں نے درست نشانہ بنانے والے جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ایران کے درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کا ہدف بننے والے مقامات میں ایرانی فوجی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام، لاجسٹک انفرااسٹرکچر اور ایران کی بحری عسکری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات شامل تھیں۔
واضح رہے کہ کہ گزشتہ شب امریکا نے ایرانشہر ایئر پورٹ، بندر عباس، بندر خمیر، اہواز اور بوشہر میں حملے کیے، جن میں 5 پل تباہ ہوئے جبکہ 7 افراد شہید اور 9 زخمی ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا نے اس بار جنوبی ایران میں شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ بندر عباس میں رہائشی عمارت، کمیونیکیشن ٹاور اور ریلوے اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔
بندر عباس کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی، بوشہر میں بحری اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پھرے گا تو امریکی صدر ٹرمپ اسے جوابدہ ٹھہرائیں گے، لیکن وہ تہران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے بھی ہمیشہ تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی معاہدہ چاہتے ہیں، ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔














Post your comments