اسلام آباد پہلا انتظامی یونٹ، احسن اقبال کی سربراہی میں بااختیار کمیٹی نے 20 تجاویز کو حتمی شکل دیدی

اسلام آباد ملک کا پہلا انتظامی یونٹ، احسن اقبال کی سربراہی میں بااختیار کمیٹی نے 20تجاویز کو حتمی شکل دیدی،اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی اپنی اسمبلی ہوگی، قائد ایوان وزیراعلی یا میئر کہلائے گا، آئینی ترمیم کے بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے 27ارکان میں سے 21براہ راست منتخب ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نئے طرزِ حکمرانی کیلئے احسن اقبال کمیٹی کی 20اہم سفارشات، وفاق سے  کو بطور وفاقی اکائی اختیارات کی منتقلی، جمہوری کنٹرول کیلئے نمائندہ حکومت کا قیام بنیادی اصولوں میں شامل۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی، جسکی سربراہی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کر رہے ہیں، نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کیلئے نئے طرزِ حکمرانی کے ماڈل سے متعلق 20 اہم سفارشات کو حتمی شکل دیدی ہے۔ یہ سفارشات اختیارات کی وفاق سے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کو بطور وفاقی اکائی منتقلی کے اصول پر مبنی ہیں۔ احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے اپنی سفارشات وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ شیئر کر دی ہیں۔ اسکے بنیادی اصولوں میں وفاق سے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کو بطور وفاقی اکائی اختیارات کی منتقلی، جمہوری کنٹرول کیلئے نمائندہ حکومت کا قیام، موجودہ طرزِ حکمرانی کے ڈھانچوں کو بروئے کار لانا، اور وفاقی دارالحکومت کی حیثیت سے آئی سی ٹی کیلئے خصوصی غور و خوض شامل ہیں۔ ان اصولوں کی روشنی میں تجویز دی گئی ہے کہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی اپنی حکومت ہوگی۔ اس مقصد کیلئے ایک منتخب اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اسمبلی (آئی سی ٹی اے) قائم کی جائیگی، جو قانون ساز ادارے کے طور پر کام کریگی، بالکل صوبائی اسمبلیوں کی طرح، تاہم امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات اس کے دائرۂ اختیار سے مستثنیٰ ہونگے۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اسمبلی (آئی سی ٹی اے) کے ارکان کی تعداد 27 ہوگی، جن میں 21ارکان براہِ راست منتخب ہونگے، خواتین کیلئے 5 مخصوص نشستیں جبکہ اقلیتوں کیلئے ایک نشست مختص ہوگی۔ قومی اسمبلی کے ہر حلقے کو آئی سی ٹی اے کیلئے 7حلقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق آئی سی ٹی اے کے ارکان پر بھی ہوگا، جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان آئی سی ٹی اے کے انتخابات کرائے گا۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اسمبلی اپنے قائد کا انتخاب کریگی، جسے وزیراعلیٰ/میئر کہا جائیگا۔ وہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت کا چیف ایگزیکٹو ہوگا اور آئی سی ٹی اے کے سامنے جوابدہ ہوگا۔ آئی سی ٹی کے محکمے صوبائی محکموں کے طرز پر قائم کیے جائینگے، تاہم ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی۔ کاروبارِ حکومت کے قواعد کے تحت ان محکموں کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا جائیگا، جیسا کہ سابقہ بلدیاتی قوانین میں کیا جاتا رہا ہے۔ قانون و امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے محکموں کے علاوہ تمام محکمے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت کے ماتحت کام کرینگے۔ قانون و امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے وفاقی حکومت کے تحت کام کریں گے، جو متعلقہ وفاقی وزیر کے ذریعے اپنے اختیارات اور فرائض انجام دے گی، یا وفاقی حکومت اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کیلئے گورنر بھی مقرر کر سکتی ہے۔ ماسٹر پلاننگ کے علاوہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تمام اختیارات اور فرائض اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کر دیے جائینگے۔ اسلام آباد کا مقامی حکومتی نظام صرف یونین کونسلز پر مشتمل ہوگا، جو آئی سی ٹی جی کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت دیگر اداروں کو تفویض تمام اختیارات اور فرائض بھی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو سونپ دیے جائیں گے۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں ایک چیف سیکریٹری ہو گا، جو اس وقت چیف کمشنر کے عہدے پر فائز ہے، جبکہ محکموں کے ہر گروپ کی نگرانی کیلئے چار سیکریٹریز مقرر کیے جائینگے۔ کاروبارِ حکومت کے قواعد کے تحت ان عہدوں کے نام تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ قانون و امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے محکمے اسلام آباد کے چیف سیکرٹری کے ذریعے متعلقہ وزیر/گورنر کو رپورٹ کرینگے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *