کراچی 2026 . تحریر : ظفر محمد خان

ریاض سے براہ راست کراچی کی پرواز تھی وہ بھی سعودی ایئر لائن کی ،  امید تھی کہ انتہائی مناسب صاف ستھری فلائٹ ہوگی لیکن لگتا ہے سعودی ایئر لائن نے بھی پی ائی اے کی طرح کا ایک جہاز اس کے لیے مقرر  کر دیا تھا جو بہت بڑا تو تھا لیکن اس میں داخل ہوتے ہی ہم پاکستان میں داخل ہو گئے تھے ۔ ہوائی سفر کو جس طرح محفوظ سمجھ جاتا ہے اسی طرح مہذب بھی سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں پوری فلائٹ میں بہت کم لوگ تھے جو تہذیب سے اشنا تھے ایک دوسرے سے پھلانگ کر سیٹوں کو پکڑنا سامان کو بری طرح لوڈ  کرنا اور فلائٹ اسٹاف کا چپ چاپ کونے میں کھڑے ہو کے تماشہ دیکھنا جاری رہا ۔ کراچی پہنچ کر ریاض کی پرواز میں یہ ضرور فائدہ ہوا کہ بہت کم  اب زمزم کی بوتلوں کی امد کی وجہ سے شور شرابہ اور دھکم پیل نہیں تھی لیکن خود ایئرپورٹ کی حالت اب اچھی نہیں رہی ہے حتی کہ ایئرپورٹ پر کسٹم سے پہلے کرنسی ایکسچینج کی جو واحد دکان تھی وہ بھی بند ہو چکی ہے گویا اب اپ کو باہر نکل کے چوروں ڈاکوؤں کے سامنے پیسے کیش کرانے ہوں گے اور پھر ان کو اپنے پیچھے لگانا ہوگا ۔
لیکن جب ایئرپورٹ سے باہر ائے تو بہا تو اتنا بڑا ہجوم تھا کہ سمجھ میں نہیں ا رہا تھا یہ کس لیے ایا ہے پتہ چلا تھوڑی دیر بعد عمرے کی ایک دو فلائٹیں ڈائریکٹ جدہ سے انے والی ہیں ان کو لینے کے لیے ان کے دوست احباب پہنچے ہوئے ہیں ۔ اس وجہ سے وہاں پر چلنا پھرنا سامان کی ٹرالی کو لے کے چلنا ایک مصیبت بن چکا تھا بڑی ہی مشکل سے پارکنگ لاٹ تک پہنچے ۔ کراچی کا موسم کافی بہتر تھا سخت گرمی نہیں تھی ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اس لیے کھڑکی کے شیشے کھول کر شاہرہ فیصل کی طرف ا رہے تھے کہ اچانک خیال ایا کہ یہ پاکستان ہے اور کھڑکی کھول کے سفر کرنا انتہائی خطرناک کوئی بھی ہاتھ ڈال کے اپ کے موبائل یا اپ کے پرس تک پہنچ سکتا ہے لہذا فورا کھڑکی بند کی اور حبس زدہ  ماحول میں سفر شروع کیا ۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کراچی رات میں روشنیوں کا اور دن میں بلند عمارتوں کا شہر ہے اور بلند عمارتیں پورے پاکستان میں صرف کراچی میں پائی جاتی ہیں جن کو دیکھ کر بنکاک  یا شنگھائی کی یاد اتی ہے ۔ شاہراہ فیصل ہی اس وقت بلند عمارتوں کا مکین نہیں ہے بلکہ ڈاؤن ٹاؤن میکلوڈ  روڈ کے علاوہ نارتھ ناظم اباد گلستان جوہر اور شاہرہ پاکستان بھی سپر ہائی وے سے ذرا اگے بحریہ ٹاؤن تک بلند  عمارتوں کی اماجگاہ بن چکی ہیں
رات کے بعد حیدری کے علاقے سے اگر اپ سامنے کی طرف دیکھیں تو اپ اپنے اپ کو کسی سنگاپور جیسے شہر میں پائیں گے ۔ اب یہ کہنے میں مجھے آر  نہیں ہے کہ سنگاپور کی خواتین کے لباس بھی یہاں اب تھوڑا بہت نظر انے لگے ہیں جو کہ خوش ائند ہیں ۔ خواتین کو بھی اپنی ازادی سے اپنے ڈریس منتخب کرنے کا پورا حق ہے اور مردوں کو ان کی طرف بری نظر سے دیکھنا ایک بڑا جرم ہے اور اس کی سزا انہیں ملنی چاہیے ۔
یہ سب بلند عمارتیں ہیں اور روشن راتیں اس وقت اپ کو تکلیف دینے لگتی ہیں جب کسی ٹریفک سگنل کے اوپر اپ پڑھے لکھے مہذب شہریوں کو ایک دوسرے سے لڑتے پھرتے اور سگنل توڑتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ نہ تو اس کے سندھ حکومت کو لعن تان کرنی چاہیے نہ ہی پاکستان کے سسٹم کو گالیاں دینی چاہیے کیونکہ یہ سسٹم یہ پولیس یہ سب ہمارے  اور اپ سے بنی ہے اور ہم سب خود بہت بڑے چور ہیں  ، ہم قانون کی پابندی کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں چاہے ہم اردو بولتے ہوں یا پنجابی سندھی بلوچی یا پٹھانوں کی زبان ۔ اگر کراچی کی 70 فیصد ابادی جو اردو بولتی ہے یا مہاجر شناخت رکھتی ہے وہ بھی وہی کچھ کرنے لگے جس کی وجہ سے دوسرے شہر گاؤں نظر اتے ہیں تو پھر کراچی کو پسماندہ ہونے سے کون روک سکتا ہے ۔
کراچی کے حقوق کی زیادتیوں سرکاری نوکریوں پر مہاجروں کی حق تلفی کے باوجود کراچی میں پیسے کے روانی نظر اتی ہے ۔ ہم تو انہی علاقوں کا ذکر کر رہے ہیں جہاں ہم پیدا ہوئے جہاں ہم پلے بڑھے ،  جہاں ہم نے  تعلیم پائی  وہی علاقے اج ہمارے زمانے سے کم سے کم 20 گنا ترقی کر چکے ہیں بلند عمارتیں ہی نہیں وہاں بڑے بڑی دکانیں شوکیس شوروم ریسٹورنٹ بین الاقوامی چینز یہ سب اس بات کی نوید  دے رہی ہیں کہ سب کچھ اتنا برا نہیں ہے جتنا سوشل میڈیا کی جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے دکھایا جاتا رہا ہے ۔
ہر بڑی دکان ہر برانڈز کے کپڑوں کی دکانوں اور کھانے پینے کے مہنگے ریسٹورنٹوں پہ اتنا رش ہے کہ اپ اسانی سے اپنی ضروریات حاصل نہیں کر سکتے پیٹرول پمپ پہ جو کہ واقعی بہت مہنگا پیٹرول ہے لیکن لائن کے بغیر اپ کو پیٹرول نہیں مل سکتا ۔
میں نہیں سمجھتا پاکستان میں غریب مزید غریب ہو رہا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ غریب اہستگی سے اوپر کی طرف ا رہا ہے مڈل کلاس اس سے ذرا تیزی کے ساتھ اوپر کی طرف جا رہا ہے اور اپر مڈل  کلاس بہت تیزی کے ساتھ عروج  کی طرف جا رہا ہے ۔ سسٹم ایسا ہونا چاہیے کہ مڈل کلاس مڈل کلاس ہی رہے لیکن اس کا ہاتھ کھلا رہے اور غریب  کے لیے بھی زندگی کے اسائشیں اسانی سے میسر ہوں ۔ تاہم کراچی کیونکہ ہمیشہ سے غریبوں کا ماں باپ رہا ہے اس لیے کراچی میں ابھی بھی خوراک سستی اچھی اور بہتر پائی جاتی ہے اس کے علاوہ عالی  شان ریسٹورنٹس میں اپ وہی خوراک مہنگے داموں  نوش کر سکتے ہیں وہی پانی کی بوتل اپ کو 50 پیسے کی بھی مل جائے گی اور وہی پانی کی بوتل کے لیے  اپ ایک سو پچاس  بھی ادا کرتے ہیں ۔
سگنل پر گاڑی کو روکنا ہم سب کا اخلاقی اور شعوری ذمہ داری ہے جس پر ہم بالکل عمل نہیں کرتے ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ سگنل اگر سبز  سے لال ہو جائے تو ہم ہرگز گاڑی نہ رکیں اور اخری بندے ہوں جو گاڑی روک سکیں  اس لیے ہمیشہ سگنل کے  درمیان کبھی ٹرک  والا کبھی کوئی سوزوکی اٹو والا یا موٹر سائیکل والا ایک دوسرے الجھ رہے ہوتے ہیں اگر ہم سب شرافت سے سگنل ہوتے ہی گاڑی کو روک لیں تو یقین کریں دور دور تک ٹریفک کا مسئلہ پیدا نہ ہو ۔
ٹریفک پلاننگ والوں نے بڑی ذہانت کے ساتھ ایسے فیصلے کیے ہیں کہ ٹریفک کو ایک دوسرے سے تصادم کے بجائے ایک لمبا یوٹرن  بنا کر ائیں تو ٹریفک کی روانی میں فرق نہیں پڑے گا لیکن ہم نے اس کو اس طرح ناکام بنایا ہے کہ ہم پورے راستہ رونگ سائیڈ اتے ہیں تاکہ ہم یوٹرن تک جانے کا پیٹرول بچا سکیں اور اس میں سواری  اگر کسی رکشہ ٹیکسی میں بیٹھی ہے تو وہ بھی خوش و خرم نظر اتی ہے ۔
حکومت  سندھ نے اگر کیمرے لگائے ہیں اور وہ 10 10 ہزار کے ٹکٹ کاٹ رہے ہیں تو میرا ان سے مخلصانہ عرض ہے کہ وہ کراچی کے جو باقی سگنل رہ گئے ہیں چاہے وہ شہری ابادیوں کے اندر یہ کیوں نہ ہو ضرور لگائیں تاکہ بڑے فائن کی ادائیگی سے بچنے کے لیے لوگ قانون کی پاسداری کریں یہی ایک حل ہے جو کراچی کے لوگوں کو قانون پر چلنے پر مجبور کر سکتا ہے ۔
کراچی میں جہانگیر روڈ جو بار بار ٹوٹنے اور مرمت ہونے کے لیے مشھور  ہیں اور وہ شہر کا ایک بہت بڑا کنکشن کنکشن راستہ ہے اس کو اب یورپین اسٹائل میں چھوٹی اینٹوں کے ذریعے بنایا گیا ہے جو بہت خوبصورت لگتا ہے لیکن اس وقت اپ کی سر میں درد ہو جاتا ہے جب وہاں پر پھر اپ گدھا گاڑیوں اور رکشوں اور ٹوٹی پھوٹی سوزوکیوں کی پارکنگ  دیکھتے ہیں جنہوں نے روڈ کا راستہ پھر بہت ہی محدود کر دیا ہے تو بھائی سندھ حکومت پلاننگ کے ادارے یہ سب کیا کریں جب ہم خود صحیح ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اسی لیے میں بار بار کہتا ہوں ہونے دو جو ہو رہا ہے ہم نے بھی نہیں سدھرنا ہے حکومت نے بھی مجبور ہو کر سر پیٹنا ہے پولیس والے بھی اس لیے نہیں کسی کو روکتے کہ انہیں پتہ ہے کہ کراچی کے لوگ انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور کراچی کے لوگ بھی پولیس پر بھروسہ  نہیں کرتے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا کراچی سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا یہ جو کمیونیکیشن گیپ ہے اس نے کراچی کو تباہی کے گڑھے تک پہنچانے میں اپنی پوری کوشش کی ہے یہ الگ بات ہے کراچی ایک بین الاقوامی شہر ہے کراچی کی اپنی ایک روح ہے کراچی میں اپنی ایک طاقت ہے جو کراچی کو اج بھی پاکستان کے کسی بھی شہر سے کم سے کم 20 گنا زیادہ چمکتا ہوا دمکتا ہوا ترقی یافتہ  خوبصورت شہر ثابت کرتی ہے

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *