مکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک توازن بدلنے کا امکان،”اسلامک نیٹو” کی بازگشت، مغرب میں تشویش، خطے میں نئی صف بندی ،سعودی سرمایہ، ترک فوجی طاقت اور پاکستانی ایٹمی صلاحیت،نیا اسٹریٹجک توازن ، بھارت نے کہا ہے کہ پیش رفت پر قریبی نظر ہے، ایران جنگ کے بعد امریکی سیکورٹی چھتری پر اعتماد کمزور ۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمی سیاست میں ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت کے طور پر ابھرا ہے، جس نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک توازن کو نئی سمت دے دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس معاہدے نے نہ صرف علاقائی طاقتوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط کیا ہے بلکہ اسرائیل، امریکہ، بھارت اور ایران سمیت اہم عالمی و علاقائی کھلاڑیوں کو بھی محتاط ردعمل دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
بعض مغربی مبصرین اسے اسلامک نیٹو قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کے نزدیک یہ اتحاد بدلتے ہوئے عالمی نظام میں سلامتی کے نئے ماڈل کی عکاسی کرتا ہے، جس کے دور رس اثرات آئندہ برسوں میں نمایاں ہو سکتے ہیں۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق، یہ معاہدہ تینوں ممالک کو خطے میں زیادہ اسٹریٹجک اثر و رسوخ حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ تاہم، اسرائیل اس معاہدے کی مکمل مخالفت نہیں کر رہا بلکہ احتیاطی نگرانی کر رہا ہے۔ اسرائیل کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ یہ اتحاد خلیجی سلامتی پر مرکوز رہے گا یا آہستہ آہستہ ایک وسیع سیاسی اور فوجی اتحاد میں تبدیل ہو جائے گا جو واضح طور پر اسرائیل مخالف موضع اختیار کرے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اگرچہ ترکیہ نے غزہ تنازع کے دوران اسرائیل پر سخت تنقید کی ہے، لیکن اسرائیل اس معاہدے کو مکمل طور پر منفی نہیں دیکھتا۔ برطانوی ادارے کے مطابق اس معاہدے کو دنیا کی تین بڑی مسلم طاقتوں کے درمیان اجتماعی دفاعی ضمانت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ہر ملک کے لیے الگ الگ تزویراتی فوائد ہیں۔ بی بی سی کے تجزیے کے مطابق سعودی عرب اس معاہدے کے ذریعے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کو پر کرنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان اسے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں اقتصادی اور عسکری تقویت کے طور پر دیکھ رہا ہے، اور ترکیہ کے لیے یہ دفاعی صنعت کے فروغ کا ایک اہم موقع ہے۔مکہ مکرمہ میں 7 اگست کو طے پانے والا “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد حتمی شکل کو پہنچا- کسی بھی بڑے بین الاقوامی یا علاقائی میڈیا ادارے نے ʼمکہ مشترکہ دفاعی معاہدہʼ کا مکمل اصل متن شائع نہیں کیا۔ معاہدے کا مکمل متن میڈیا کو دستیاب نہیں، صرف مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، تاریخی تعلقات، اسلامی برادری اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر اجتماعی سلامتی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا شامل ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تفصیلی قانونی ذمہ داریاں، کمانڈ ڈھانچہ اور عملی طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں۔ عالمی میڈیا رپورٹس نے اس معاہدے کی اہم شقیں، مقاصد اور سیاسی و عسکری پس منظر ضرور بیان کیا ہے، لیکن پورا قانونی معاہدہ بپلک نہیں کیا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ تمام تفصیلات ایک مشترکہ بیان سے اخذ کی گئی ہیں، سعودی پریس ایجنسی اور اسلامی تعاون تنظیم کی نیوز ایجنسی نے مکہ سربراہی اجلاس کا مکمل مشترکہ بیان شائع کیا ہے، جو معاہدے کے اصل متن کے قریب ترین دستاویز ہے- مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دیں گے۔














Post your comments