بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں کر کے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے ضلع سوراب اور مستونگ میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، ضلع سوراب میں 7 اور مستونگ میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔
فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی 2 خودکش حملہ آور خواتین اور ایک سہولت کار کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور آئی ای ڈیز برآمد ہوئی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔
فتنہ الخوارج کی سہولت کاری میں ملوث خود ساختہ مولوی ظفریاب کو گرفتار کر لیا گیا۔
خارجی سہولت کار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 8 سالہ درسِ نظامی جامع نظام العلوم شعبہ یتیم خانہ بنوں شہر سے مکمل کیا اور 3 سالہ تخصص فی الفقہ المرکز اسلامی غوریوالہ سے کیا۔
مفتی ظفریاب نے کہا ہے کہ خارجی کمانڈر حکمت روشان کے ساتھ رابطہ تھا، ریاستی اداروں کو میرے رابطوں کا علم تھا اور انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔
ملزم کا کہنا ہے کہ خارجی کمانڈر حکمت روشان جہاد کے نام پر بھتہ خوری سے متعلق مجھ سے غیر شرعی فتوے حاصل کرتا تھا اور مجھ سمیت مختلف افراد کو عہدوں اور مالی فوائد کی پیشکش کرتا تھا۔
خارجی سہولت کار نے کہا ہے کہ میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں، فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ غیر اسلامی اور غیر شرعی ہیں۔
گرفتار سہولت کار نے یہ بھی کہا ہے کہ فتنہ الخوارج غیر اسلامی نظریات رکھتے اور مسلمانوں کا قتل جائز قرار دیتے ہیں۔















Post your comments