ایرانی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے پر دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔
دوسری جانب اردنی سرکاری خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اردنی فضائی حدود میں آنے والے 4 میزائل مار گرائے ہیں۔
ادھر ایرانی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین کے شہر منامہ میں امریکی فوجی اڈے سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ خلیجی خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں شدت آ گئی ہے۔
اس سے قبل امریکا کی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف حملوں کی تازہ ترین لہر مکمل کر لی ہے، ایران کے خلاف مسلسل تیسری رات حملے کیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے شہر بندر عباس، بوشہر، قشم، کیش اور ابو موسیٰ میں دھماکے سنے گئے جبکہ وسطی ایران کے شہر امیدیہ میں بھی امریکی میزائل گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق 5 گھنٹے طویل آپریشن میں امریکی افواج نے بوشہر، چاہ بہار، اسک، کونارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین میں امریکی اڈے پر حملوں کے دوران ایندھن کے ذخائر کو آگ لگا دی گئی۔
جاری بیان میں پاسدادرانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ حملوں میں پیٹریاٹ ریڈار، فضائی کنٹرول ریڈار، سی ریم ابتدائی انتباہی ریڈار نظام کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بغیر عملے والی سطحی کشتیوں کے کنٹرول اور مانیٹرنگ سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آپریشن نصر 2 کی دوسری لہر میں بحرین میں امریکی فوجیوں کے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آپریشن نصر 2 میں اسلحے کے متعدد گوداموں اور سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران نے کروز میزائلوں سے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ڈرونز کے ذریعے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
آبنائے ہرمز میں خلاف ورزیوں پر کئی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو ایرانی کروز میزائلوں سے اس کے 2 ٹینکر جہازوں پر حملہ ہوا ہے۔
واقعہ عمانی علاقائی پانیوں میں پیش آیا، ٹینکر پر حملے میں عملے کا ایک بھارتی رکن ہلاک ہوگیا، 8 افراد زخمی ہیں۔
دونوں ٹینکروں میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا۔
امارات کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں اضافے کے جواب میں کارروائی کا مکمل حق محفوظ رکھتے ہیں۔














Post your comments