ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا اپنے والد شہید سید آیت اللّٰہ خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا۔
تحریری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ قوم کا مطالبہ ہے اور یہ ضرور لیا جائے گا، ان مجرموں سے شہید رہنما سمیت تمام شہداء کا بدلہ لینے کا عہد کرتے ہیں اور ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
اپنے والد کی تدفین اور آخری رسومات کے اختتام پر جاری کیے گئے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران اور عراق میں کروڑوں افراد کی جانب سے شہید آیت اللّٰہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر اظہار تشکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ تہران، قم، نجف، کربلا، مشہد سمیت دونوں ممالک کے شہروں اور دیہات میں عوام کی بھرپور شرکت قومی اتحاد، استقامت اور انقلابِ اسلامی سے وابستگی کا واضح اظہار ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے عہد کیا کہ وہ ان کے مشن اور راستے کو پوری ثابت قدمی سے جاری رکھیں گے اور ایران مشکلات کے باوجود اپنے اہداف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قاتلوں کی شناخت ہو چکی ہے اور انہیں یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ انصاف سے بچ سکیں گے۔ ان کے بقول، انتقام کا عمل کسی ایک فرد یا عہدے سے وابستہ نہیں بلکہ ہر حال میں جاری رہے گا۔
ایران پر تازہ امریکی حملوں کے بعد عُمان، قطر، اردن، بحرین اور کویت میں ایران کی جانب سے امریکی فوجی اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔
ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ عُمان کی بندرگاہ دُقم میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے استعمال ہونے والے لاجسٹک سپورٹ مراکز اور ایندھن بھرنے والے پلیٹ فارمز پر شدید اور اچانک حملہ کیا ہے۔
قطر میں العدید فضائی اڈے پر بھی بیلسٹک میزائل داغے اور جنگی طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کا مرکز اور ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تباہ کردیا گیا۔
ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوج کے زیر استعمال پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار تنصیب کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
علاوہ ازیں اردن کے سلطان حسن ایئر بیس پر امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور ایم کیو نائن ڈرونز کا ہینگر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
امریکا نے ایران کیخلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی پاسداران انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز پر حملے کے بعد کی گئی ہے۔















Post your comments