عالمی طاقت کا مرکز مشرق کی طرف منتقل ہو چکا، چین میں ٹرمپ کو واضح پیغام

امریکی جریرے کا کہنا ہےچین میں ٹرمپ کو واضح پیغام ملا کہ عالمی طاقت کا مرکز مشرق کی طرف منتقل ہو چکا ،چینی معاشی و اسٹریٹجک مضبوطی نے طاقت کا توازن بدل دیا، ٹرمپ کا دورہ علامتی کامیابی ، مگر عملی اثر محدود ، بیجنگ مذاکرات میں امریکہ کو سخت سفارتی چیلنجز کا سامنا،شی کا تائیوان پر دو ٹوک مؤقف، کشیدگی کی اصل وجہ برقرار ہے۔ٹائم کی خصوصی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ چین کے دورے نے ایک بار پھر یہ بحث تیز کر دی ہے کہ عالمی طاقت کا مرکز تیزی سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں اگرچہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں وقتی نرمی اور سفارتی گرمجوشی دکھائی دی، لیکن اصل تنازعہ خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر برقرار رہا۔

اقوام متحدہ میں امریکا کے مندوب مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کے بعد چین نے ایران سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا ہے۔

مائیک والٹز کا کہنا تھا کہ چین نے ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس نہ لگانے پر اتفاق کیا۔

یاد رہے کہ امریکی چینل کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین ایران کو فوجی ساز و سامان نہیں دے گا، آبنائے ہرمز کو کھلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *