آن لائن ڈاکٹر: شفا کا دعویٰ، تماشے کی حقیقت از قلم: نجیم شاہ

تاریخ اُٹھا کر دیکھیے تو انسان نے ہر دور میں بیماری کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کسی نہ کسی مسیحا کے در پر حاضری دی ہے۔ فرق صرف یہ آیا ہے کہ پہلے یہ دروازے اینٹوں اور پتھروں کے ہوتے تھے، اب موبائل اسکرین میں کھلتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے طب کی دُنیا نے ترقی نہیں بلکہ ’’اپڈیٹ‘‘ لی ہے، اور اس اپڈیٹ میں ہر وہ شخص ڈاکٹر بن چکا ہے جس کے پاس انٹرنیٹ اور اعتماد کی فراوانی ہے۔ پچھلے دنوں ایک صاحب کا فرمان نظر سے گزرا کہ دو پتے کھا لیجیے، باقی ساری بیماریاں خود ہی راستہ بھول جائیں گی، گویا دوا نہیں کوئی جادوئی پاس ورڈ ہو۔

یہ آن لائن مسیحائی دراصل ایک ایسا ڈیجیٹل میلہ ہے جہاں علم کم اور دعوے زیادہ بکتے ہیں۔ آپ سر درد لے کر داخل ہوں اور چند منٹ بعد خود کو خطرناک بیماریوں کا اُمیدوار سمجھنے لگیں۔ اِن نسخوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف اُس وقت تک زندہ رہتے ہیں جب تک موبائل کی بیٹری قائم ہے۔ جیسے ہی حقیقت کی ہَوا لگتی ہے، یہ سارے معجزے ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں، اور اِنسان اپنے وہموں کیساتھ اکیلا رہ جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن آنلائن ڈاکٹروں کے پاس الفاظ کا ایسا خزانہ ہوتا ہے کہ سننے والا مرعوب ہو جائے، مگر جب تشخیص کی بات آئے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ وہ ایسی اصطلاحات دہراتے ہیں کہ مریض بیماری بھُول کر لغت کھول بیٹھتا ہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی سنجیدہ سوال سامنے آتا ہے، سارا علم ایسے بیٹھ جاتا ہے جیسے امتحان میں تیاری کے بغیر بیٹھا طالب علم، جسے اب اپنی قسمت پر چھوڑ دیا گیا ہو۔

ان کے نسخوں پر نظر ڈالیں تو یُوں لگتا ہے جیسے کسی پنساری نے اپنی پوری دُکان ایک ہی پرچی پر لکھ دی ہو۔ ادرک، لہسن، شہد، دارچینی اور نہ جانے کیا کیا،سب کچھ ایکساتھ۔ مریض علاج کم اور سامان زیادہ جمع کرتا ہے، اور آخر میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری تو اپنی جگہ موجود ہے، البتہ بدہضمی ایک نئی مہمان بن کر آ گئی ہے، جو کسی نسخے سے جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔

جب یہی مریض کسی حقیقی ہسپتال کا رُخ کرتا ہے تو منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ ڈاکٹر چند سوالوں میں ہی ساری آن لائن حکمت کا بھانڈا پھوڑ دیتا ہے۔ تب اندازہ ہوتا ہے کہ گوگل کی معلومات اور اصل علم میں وہی فرق ہے جو خواب اور بیداری میں ہوتا ہے۔ آن لائن ڈاکٹر کی ساری خود اعتمادی اس وقت رخصت ہو جاتی ہے جب اُسے عملی دُنیا کے اُصولوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اصل مہارت سامنے آ جاتی ہے۔

سوشل میڈیا نے واقعی ڈاکٹر بننے کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ چند سرچ کیجیے، مشکل اصطلاحات یاد کیجیے اور آپ بھی ماہرین کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر جب کسی کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی باری آئے تو یہی ماہرین کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ اِس ساری صورتحال میں سنجیدگی کم اور تماشا زیادہ نظر آتا ہے، اور علم کا وقار محض ایک لطیفے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل علاج اب شفا کا ذریعہ نہیں بلکہ تفریح کا ایک نیا انداز بن چکا ہے۔ اسکرین روشن ہو تو ہر نسخہ معجزہ لگتا ہے، اور اسکرین بند ہو تو سب کچھ ایک لطیفہ محسوس ہوتا ہے۔ اِنسان علاج کی تلاش میں نکلتا ہے اور مزاح کا سامان لے کر واپس آتا ہے، جیسے کسی میلے سے خالی جیب مگر بھرا ذہن لے کر لوٹا ہو۔

مختصر یہ کہ آن لائن ڈاکٹر کا یہ تصور بظاہر جتنا دلکش ہے، حقیقت میں اتنا ہی کھوکھلا ہے۔ اصل شفا اب بھی مستند علم اور تجربے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ چمکتی ہوئی اسکرین پر لکھے دعوؤں میں۔ اِس لیے بہتر یہی ہے کہ عقل کو رہنما بنائیں، کیونکہ یہ ڈیجیٹل مسیحا ہنسا تو سکتے ہیں، مگر صحت مند بنانے کی طاقت اب بھی حقیقت کے پاس ہی ہے، اور یہی بات سمجھنا اصل دانشمندی ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *