مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں تاخیر، آئین کی مسلسل خلاف ورزی کا انکشاف

مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس تاخیر سے کرانے پر آئین کی مسلسل خلاف ورزیوں کاانکشاف ہوا ہے۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا مگر سی سی آئی کاکوئی اجلاس منعقد نہ کیاجاسکاجبکہ موجودہ حکومت کےدو سال سے زائد عرصے میں سی سی آئی کا صرف ایک اجلاس ہی ہوسکا۔آئین کے آرٹیکل 154(3)کےتحت سی سی آئی کااجلاس نوےروزمیں کم ازکم ایک بارہوناضروری ہے۔مشترکہ مفادات کونسل کاآخری بار اجلاس 28 اپریل 2025 میں ہواتھا ۔موجودہ حکومت میں تشکیل کردہ مشترکہ مفادات کونسل کے چیئرمین وزیراعظم اورچاروں صوبائی وزراء اعلی سی سی آئی کے ارکان میں شامل ہیں جبکہ وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر سیفران امیر مقام ارکان کاحصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن،پی ٹی آئی اوراتحادی حکومتوں سمیت نگران اور موجودہ حکومت میں بھی سی سی آئی کا اجلاس نوے روز کے اندر نہ کروانےپرمسلسل آئین کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *