آبنائے ہرمز بحران، عالمی سطح پر بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات

آبنائے ہرمز بحران، عالمی سطح پر بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات، 70 ممالک کے فوری پالیسی فیصلے، خام تیل کی قیمت تقریباً 50 فیصد اضافے کے ساتھ 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز، بنگلہ دیش میں ایندھن راشننگ، تعلیمی ادارے بند، مارکیٹیں جلد بند، سری لنکا میں کیو آر کوڈ فیول سسٹم، ہفتہ وار کوٹہ، چین میں پیٹرولیم قیمتوں کی حد مقرر، جاپان نے تیل ذخائر جاری کیے، سعودی عرب کیساتھ توانائی ٹاسک فورس قائم، نیپال میں دو روزہ تعطیل، طاق وجفت گاڑی نظام کی تیاری، بھوٹان نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 25 فیصد کمی، جرمنی قیمت کنٹرول، فرانس امداد، اسپین ٹیکس چھوٹ، سویڈن، پولینڈ، کروشیا میں ٹیکس کمی، برطانیہ و آئرلینڈ میں سبسڈیز، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 تا 25 فیصد سمندری تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔اس بندش کے فوری اثرات عالمی منڈیوں پر ظاہر ہوئے اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 50 فیصد اضافے کے ساتھ 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے توانائی درآمد کرنے والے ممالک شدید دباؤ میں آ گئے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق کم از کم 70 ممالک نے فوری پالیسی اقدامات کیے جبکہ مختلف رپورٹس کے مطابق 85 سے زائد ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں، جس نے عالمی سطح پر کفایت شعاری کو ناگزیر بنا دیا۔ اس بحران کے نتیجے میں حکومتوں نے ایندھن بچانے، بجلی کی کھپت کم کرنے، اور اقتصادی دباؤ کو محدود کرنے کے لیے ورک فرام ہوم، راشننگ، اور ٹیکس ریلیف جیسے اقدامات متعارف کرائے. عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش نے ایندھن راشننگ نافذ کرتے ہوئے ڈیزل کی فروخت محدود کی، یونیورسٹیاں بند کر کے آن لائن تعلیم شروع کی، آرائشی روشنیوں پر پابندی لگائی، شاپنگ مالز شام 6 بجے بند کرنے کا حکم دیا، اور سرکاری عمارتوں میں اے سی 25 ڈگری سے کم نہ رکھنے کی ہدایت جاری کی۔سری لنکا نے 15 مارچ سے  کوڈ کے ذریعے فیول راشننگ سسٹم نافذ کیا، جس کے تحت بسوں کے لیے 60 لیٹر اور کاروں و تھری وہیلرز کے لیے 15 لیٹر ہفتہ وار کوٹہ مقرر کیا گیا، جبکہ بدھ کے روز دفاتر بند، اشتہاری لائٹس رات 9 بجے بند، اور عوام کو روزانہ 1 سے 2 گھنٹے بجلی بچانے کی ہدایت دی گئی۔ نیپال نے ہفتے میں دو دن تعطیل نافذ کی، گاڑیوں کے لیے طاق وجفت نظام کی تیاری مکمل کی، اور مجوزہ طور پر موٹر سائیکل کے لیے 5 لیٹر اور کار کے لیے 20 لیٹر فیول حد مقرر کرنے پر غور کیا، جبکہ بھوٹان نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 25 فیصد کمی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ تھائی لینڈ نے ʼتھائی لینڈ 10 پلسʼ حکمت عملی کے تحت اے سی 26 ڈگری پر محدود کیا، لنچ ٹائم میں لائٹس اور لفٹس بند کرنے کا حکم دیا، سرکاری بیرونی دورے معطل کیے، ورک فرام ہوم لازمی قرار دیا، کار پولنگ کی ترغیب دی، اور پیٹرول پمپس کے اوقات رات 10 سے صبح 5 تک محدود کرنے کا منصوبہ بنایا۔ فلپائن نے ایک سالہ قومی توانائی ایمرجنسی نافذ کی، سرکاری ملازمین کے لیے چار روزہ ورک ویک متعارف کرایا، بڑے شہروں میں مفت بس سروس شروع کی، اور ٹرانسپورٹ ورکرز کو 5000 پیسوس مالی امداد فراہم کی۔ ویتنام میں ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد گھریلو پروازیں کم کی گئیں اور کمپنیوں کو ورک فرام ہوم اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ انڈونیشیا نے جمعہ کے دن ورک فرام ہوم لازمی کر کے اربوں کی بچت کا ہدف مقرر کیا اور بائیو ڈیزل پالیسی کے ذریعے فوسل فیول میں بڑی کمی کا منصوبہ بنایا۔لاؤس نے دفتری اوقات کم کیے اور شفٹ سسٹم نافذ کیا، اسکولوں میں ہفتے میں صرف تین دن کلاسز شروع کیں، جبکہ کمبوڈیا نے پبلک ٹرانسپورٹ کرائے منجمد کیے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرضہ اسکیمیں متعارف کروائیں، اور میانمار نے گاڑیوں کے لیے کوٹہ اور گردشی نظام نافذ کیا۔چین نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حد مقرر کی تاکہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے، جبکہ جاپان نے اسٹریٹجک ذخائر سے تیل جاری کیا اور سعودی عرب کے ساتھ توانائی تعاون کے لیے ٹاسک فورس قائم کی۔جنوبی کوریا نے 12 نکاتی توانائی بچاؤ مہم شروع کی جس میں کم دورانیہ شاور، دن کے وقت چارجنگ، اور گھریلو بجلی کے استعمال میں کمی شامل ہے، جبکہ سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر ہفتہ وار پابندیاں اور بڑی کمپنیوں کو توانائی کم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ مصر نے دکانوں کو رات 9 بجے بند کرنے، اسٹریٹ لائٹس کم کرنے، سرکاری ایندھن میں 30 فیصد کمی کرنے، اور اتوار کے روز ورک فرام ہوم نافذ کرنے جیسے اقدامات کیے، جبکہ توانائی درآمدی بل دوگنا ہو کر 2.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ سینیگال نے وزراء کے غیر ضروری بیرونی دورے معطل کیے، نائیجیریا نے صنعتی شعبے کو توانائی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی، ایتھوپیا نے ورک فرام ہوم اور آن لائن میٹنگز کو فروغ دیا، جبکہ زیمبیا نے پیٹرول و ڈیزل پر ٹیکسز ختم کر کے عوامی بوجھ کم کیا۔ یورپ میں جرمنی نے ایندھن قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے، فرانس نے ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں کو مالی امداد دی، جبکہ اسپین نے قابل تجدید توانائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور ایندھن ٹیکس میں کمی کی۔ سویڈن نے عارضی طور پر ایندھن ٹیکس کم کیے، پولینڈ اور کروشیا نے گیس اور ڈیزل پر قیمتوں کی حد مقرر کی، جبکہ برطانیہ اور آئرلینڈ نے کم آمدنی والے طبقات کے لیے سبسڈیز اور ٹارگٹڈ مالی امداد فراہم کی۔ یورپی کمیشن نے شہریوں کو ڈرائیونگ اور فضائی سفر کم کرنے اور ورک فرام ہوم اپنانے کی اپیل کی، جبکہ کینیڈا، میکسیکو اور ارجنٹائن نے توانائی پالیسیوں میں ایڈجسٹمنٹ اور ہنگامی اقدامات کیے۔ ہیٹی نے غیر ضروری بیرونی دورے محدود کیے اور ایندھن بچاؤ اقدامات نافذ کیے، جبکہ بارباڈوس نے ایندھن قیمتوں کو مستحکم رکھا، بجلی سبسڈیز بڑھائیں، اور 81 ملین ڈالر کے قابل تجدید توانائی پروگرام کا آغاز کیا۔ عالمی سطح پر  نے 400 ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ذخائر سے جاری کرنے کا اعلان کیا، جبکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مطابق کم از کم 12 ممالک نے مالی مدد طلب کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بحران صرف عارضی نہیں بلکہ طویل المدتی توانائی پالیسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *