ٹرمپ پر تیسرا قاتلانہ حملہ، پھر بچ نکلے، امریکی شہری گرفتار، ملزم عیسائی مخالف ہے، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیسری بار بھی قاتلانہ حملے میں بچ نکلے ‘وہ اس سے قبل 14جولائی اور 15ستمبر 2024ءمیں بھی محفوظ رہے تھے ۔ گزشتہ روز واشنگٹن ڈی سی کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی جسے سکیورٹی حکام نے ناکام بنادیا ‘فائرنگ سے ڈنر کی تقریب میں افراتفری مچ گئی جبکہ واقعہ میں سیکریٹ سروس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا‘ حملہ کرنے والے امریکی شہری کول ایلن کو موقع پر گرفتارکرلیاگیاجس سے تفتیش جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے دوران کم از کم پانچ سے آٹھ گولیاں چلائی گئیں‘ملزم کول ایلن کو آج عدالت میںپیش کیا جائے گا‘تقریب میں صدر ٹرمپ‘ خاتون اول میلانیا ٹرمپ‘ نائب صدر جے ڈی وینس وزیر خارجہ‘وزیردفاع ‘وزیرخزانہ ‘اٹارنی جنرل سمیت متعدد امریکی اعلیٰ حکام موجود تھے۔ میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ کے قائم مقام سربراہ جیف کیرول کے مطابق مشتبہ حملہ آور کے پاس شاٹ گن ‘ہینڈگن اورچاقو سمیت کئی ہتھیار موجود تھے‘اٹارنی جنرل ٹوڈبلانچ کا کہنا ہے کہ حملہ آور پر پر جلد ہی فردِ جرم عائد کی جائے گی‘ ملزم ممکنہ طور پر صدر سمیت اُن کی انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کاکہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران صدر ٹرمپ مکمل طور پر بے خوف رہے جبکہ امریکی صدرنے کہاہےکہ مشتبہ شخص ذہنی بیمار اور عیسائی مخالف ہے ‘ نہیں لگتاکہ اس حملے کا تعلق ایران جنگ سے ہے لیکن ابھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے‘میں تصور نہیں کر سکتا کہ صدر کے عہدے سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ بھی ہو سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے طور پر ہوئی ہے جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورنز کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔سی بی ایس نیوز کے مطابق مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ جیف کیرول کے مطابق زخمی ہونے والے سیکرٹ سروس کے اہلکار کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اب اس کی حالت خطرے سے باہر اور بہتر ہے ۔ دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ زیر حراست ملزم ذہنی بیمار اور عیسائی مخالف ہے ‘یہ پاگل لوگ ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ فاکس نیوزکو انٹرویو میں واشنگٹن ڈی سی کے ہوٹل میں فائرنگ کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کل ایک اُداس شام تھی لیکن وہ اور خاتون اول ٹھیک ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مبینہ مسلح شخص کے دل میں نفرت تھی اور وہ اینٹی کرائسٹ تھا۔مستقبل میں سکیورٹی مسائل سے بچنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے بال روم کی ضرورت ہو گی۔قبل ازیں فائرنگ کے واقعہ کے بعد پریس کانفرنس میں صدرٹرمپ کا کہنا تھاکہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے پر حملہ اور فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص لون ولف تھا۔میرا خیال ہے کہ وہ اسے اکیلا حملہ آور سمجھ رہے ہیں اور میں بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔اس سوال پر کہ کیا وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے فکرمند ہیں اور کیا اس واقعے کا تعلق ایران میں جنگ سے ہو سکتا ہے؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ مجھے نہیں لگتا لیکن آپ کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ میں نے اپنی پہلی مدت میں اوباما دور کا ایران جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا‘جب آپ ایسے اقدامات کرتے ہیں تو آپ خود نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگر میں یہ سب نہ کر رہا ہوتا تو شاید میں کم ہدف بنتا لیکن میں جو کر رہا ہوں مجھے اس پر فخر ہے۔لوگ ایسے حالات میں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن میں ایسا نہیں ہوں۔ جہاں تک اس واقعے کے تعلق کا سوال ہے میرے خیال میں جو معلومات ہمارے پاس ہیں ان کے مطابق ایسا نہیں ہے‘ ہم اپنا کام جاری رکھیں گے ۔ ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ جو ایک تفریحی شام سمجھی جا رہی تھی اسے ایک بیمار ذہن والے شخص نے ہائی جیک کر لیا، اس نے صدر کو قتل کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کے زیادہ سے زیادہ اعلیٰ عہدے داروں کو مارنے کی کوشش کی۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں لیویٹ کا کہنا تھا کہ وہ صدر کے ساتھ بیک اسٹیج پر تھیں جب ہمیں سیکرٹ سروس کی طرف سے فوری طور پر وہاں سے لیجایا گیا۔ صدر اس وقت بالکل بے خوف تھے۔اس سیاسی تشدد کا ختم کرنے کی ضرورت ہے۔وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے اعزاز میں رکھے گئے عشائیے کے دوران فائرنگ کے بعد سیکورٹی پر مامور امریکی خفیہ اہلکاروں نے سب سے پہلے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو ہال سے ریسکیو کیا،اس کے بعد اہلکاروں نے اسٹیج کی دوسری طرف موجود  ٹرمپ ،جو وہاں دیگر لوگوں کیساتھ کرسیوں کی آڑ میں موجود تھے ، کو اپنے حصار میں لےلیا اور ہال سے باہر لے گئے۔فائرنگ کے بعد اسٹیج پر موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر لوگوں نے وہیں بیٹھ کر اپنی جانیں بچائیں ۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *