مستقل جنگ بندی، ایرانی شرائط پاکستان کے حوالے، ہرمز کیلئے نیا قانونی نظام

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اسلام آباد کے حالیہ دوروں نے خطے میں جاری ایران امریکہ کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عراقچی کا یہ دورہ کسی جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں بلکہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جنگ کے خاتمے کیلئے تہران کی شرائط آگے پہنچانے کے سلسلے کی کڑی ہے۔تسنیم رپورٹ کے مطابق ایران نے پاکستان کو ایک اہم ثالث کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی کیلئے اپنے بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان شرائط میں آبنائے ہرمز کیلئے ایک نیا قانونی اور انتظامی نظام، ایران کے خلاف مبینہ فوجی جارحیت کے خاتمے کی ضمانت، بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات پر ہرجانے کی ادائیگی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی یا مذاکراتی پیش رفت کے لیے ان نکات پر پیش رفت ناگزیر ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا ہے۔

رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا جنگ کے خاتمے میں کردار قابل تحسین ہے۔

انہوں نےکہا کہ ایرانی وفد کا دورہ مکمل سیکیورٹی، مؤثر منصوبہ بندی اور بہترین انتظامات میں ہوا۔

ایرانی سفیر  نے کہا کہ پاکستانی اداروں کی کارکردگی قابل تعریف ہے، پاک فوج، سیکیورٹی فورسز ، پولیس اور سرکاری اداروں کے عملے کا خصوصی شکریہ اور اسلام آباد کے عوام کی مہمان نوازی ، صبر اور تعاون کو خراج تحسین پیش کیا۔

رضا امیری مقدم نے پاکستان کو برادر ،دوست اور ہمسایہ ملک قرار دیتے ہوئے تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *