وائٹ ہاؤس کوریسپونڈینٹ ڈنر کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ محفوظ رہے، حملہ آور پکڑا گیا

امریکی وائٹ ہاوس کی کوریج پر مامور نمائندوں سے متعلق ڈنر کی تقریب میں بدمزگی کی صورتحال پیدا ہوئی، کوریسپونڈینٹ ڈنر کے دوران زور دار آواز سنی گئی۔

وائٹ ہاؤس کوریسپونڈینٹ ڈنر کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ محفوظ رہے۔

صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور وہ زندہ ہے۔

اس سے پہلے امریکی اور روسی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ شوٹر کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی وائٹ ہاؤس میں ہونے والے کوریسپونڈینٹ ڈنر کے دوران بدمزگی، سیکریٹ سروس کے اہلکار صدر ٹرمپ کو باہر لے گئے۔

اسپیکر مائیک جانسن بھی ڈنر میں موجود تھے، انہیں بھی سیکریٹ سروس کے اہلکار باہر لے گئے۔

واضح رہے کہ کوریسپونڈینٹ ڈنر میں صدر ٹرمپ کا خطاب بھی متوقع تھا تاہم تقریب میں صدر ٹرمپ تاحال واپس نہیں آئے۔

وائٹ ہاؤس کی کوریج پر مامور نمائندوں سے متعلق ڈنر کی تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اس دوران صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھ بیٹھی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو ایک پرچی دکھائی گئی۔

ایسی ہی پرچی پہلے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دکھائی گئی تھی۔ جس پر صدر ٹرمپ کے ایک جانب بیٹھی خاتون کو حیرت زدہ ہوتے دیکھا گیا۔ اچانک فائرنگ کی آواز گونجی جس پر صدر ٹرمپ اور دیگر شرکاء  اپنی نشستوں سے اتر کر نیچے ہوگئے۔

اس دوران سیکریٹ سروس کے اہلکار صدر ٹرمپ کو باہر لے گئے، جبکہ کئی اہلکاروں نے بندوقیں تان لی۔ اسی کوریسپونڈینٹ ڈنر سے صدر ٹرمپ کا خطاب بھی متوقع تھا۔

تقریب میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔ واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل میں منعقد اس تقریب سے شرکاء کو باہر نکالا جارہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فائرنگ کرنے والے کے پاس کئی ہتھیار تھے۔کئی سال میں پہلا موقع ہے نہیں کہ ری پبلکنز پر حملہ ہوا۔ ہمیں اپنے اختلافات دور کرنا ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کوریسپونڈینٹ ڈنر کے دوران فائرنگ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں،  وہ واحد حملہ آور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اہلکار کو گولی لگی مگر بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔ جس اہلکار کو گولی لگی میں نے اس سے بات کی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم اپنی تقریبات منسوخ نہیں کریں گے۔ ہم تیس دن میں اس سے بڑی تقریب منعقد کریں گے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تقریب جاری رکھنا چاہتے تھے مگر پروٹوکول کے تحت باہر گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز لمحہ تھا، ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں، میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا، میلانیا نے فوراً کہا بری آواز ہے، سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے بروقت اقدام کیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جو لوگ بہت بڑے اقدام کرتے ہیں، جو بڑا اثر چھوڑتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، ہم نے بہت اقدامات کیے ہیں، اس ملک کا مذاق اڑایاجاتا تھا، ہم نےصورتحال بدلی۔ ہم نے ملک کی حالت بہتر کی، بہت سے لوگوں کو یہ پسند نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس شخص نے پندرہ گز دور سے حملے کی کوشش کی، ملزم زیرِ حراست ہے، تفتیش جاری ہے، ملزم کیلیفورنیا کا رہائشی ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ملزم نے گرفتاری کے دوران سخت مزاحمت کی، فائرنگ کرنے والے شخص کے پاس کئی ہتھیار تھے، وہ  بلٹ پروف جیکٹ پہنےتھا۔

اس موقع پر انہوں نے پنسلوینیا میں خود پر فائرنگ کے واقعہ کا بھی ذکر کیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *