ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے شبہے میں ایک جہاز کو قبضے میں لیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق بحری جہاز نے خلاف ورزیاں کیں اور وارننگز کو نظر انداز کیا۔
گزشتہ روز پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کی تصاویر ایرانی میڈیا نے جاری کی تھیں۔
تصاویر میں اسرائیل سے منسلک شپنگ کمپنی کے جہاز کو تحویل میں لیے جانے کے مناظر شامل تھے۔
امریکی پابندیوں کا شکار کیوبا کا سپر آئل ٹینکر آبنائے ہُرمُز کراس کرگیا۔
امریکا نے 2024 میں اس جہاز پر اس الزام کے تحت پابندی لگائی تھی کہ اس نے ایران سے چین کو تیل پہنچایا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق اب یہ جہاز لارک جزیرے پر لنگرانداز ہے۔
عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں 5 بحری جہازوں نے آبنائے ہُرمُز عبور کی ہے۔ ان میں سے ایک جہاز ایرانی آئل پروڈکٹس کا تھا۔
اسی دوران سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں امریکی فوج نے 34 بحری جہازوں کو واپس مُڑنے پر مجبور کیا ہے ۔
روسی ذرائع کا کہنا ہے ایران نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ آبنائے ہُرمُز سے گزرنے والے دوست ملکوں کے ٹینکرز سے کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کریگا۔
گزشتہ روز ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے لینے والا ٹول ٹیکس مرکزی بینک میں جمع کروانے کا اعلان کیا تھا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے کہا تھا کہ ٹول ٹیکس سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی گئی۔
دوسری جانب امریکی پابندیوں کا شکار کیوبا کا سپر آئل ٹینکر آبنائے ہُرمُز کراس کرگیا۔
امریکا نے 2024 میں اس جہاز پر اس الزام کے تحت پابندی لگائی تھی کہ اس نے ایران سے چین کو تیل پہنچایا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق اب یہ جہاز لارک جزیرے پر لنگر انداز ہے۔
عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں 5 بحری جہازوں نے آبنائے ہُرمُز عبور کی ہے۔ ان میں سے ایک جہاز ایرانی آئل پروڈکٹس کا تھا۔










Post your comments