امریکی صدر ٹرمپ کی اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات میں ایران کی نئی امن تجویز پر غور کیا گیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیش کش کی گئی ہے، لیکن صدر ٹرمپ کی ریڈ لائنز بالکل واضح ہیں۔
کیرولین لیوٹ کے مطابق امریکا کوئی ایسی ڈیل قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت ہو۔
ٹرمپ کی زیر صدارت وہائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ میں واقع انٹیلی جنس کمپلیکس کے گراؤنڈ فلور پر سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس میں ایران کی امن تجویز کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ ایرانی تجاویز پاکستانی ذرائع سے امریکا کو ملی ہیں، ایران نے جو تجاویز امریکا کے حوالے کیں، اُن میں جنگ کا خاتمہ سرفہرست ہے، اس کے بعد ایران نے حملے دوبارہ نہ کرنے کی ضمانت مانگی ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ تیسرے قدم کے طور پر آبنائے ہُرمُز اس شرط پر کھولی جاسکتی ہے کہ امریکا ایرانی سمندروں کی ناکا بندی ختم کرے۔ اس کے بعد نیوکلیئر ایشو پر بات کی جائے تاہم امریکا پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا ایرانی حق تسلیم کرے۔
فوکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا، ایران بات کرنا چاہے تو فون کرلے۔ امریکی ٹیلی فون لائنز بہت اچھی اور محفوظ ہیں، انہوں نے کہا، ایران کو پتہ ہے ڈیل میں کیا ہونا چاہیے، ایٹمی ہتھیار نہ چھوڑے تو ایران سے مل بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔










Post your comments