وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یو این امن دستوں کے عالمی دن پر پیغام میں اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے مرد و خواتین کوخراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ دن امن محافظین کی گراں قدر خدمات اور قربانیوں کو تسلیم کرنے کے لیے مخصوص ہے، اس سال اس دن کا موضوع امن میں سرمایہ کاری رکھا گیا ہے، یہ دن دنیا بھر میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم اور مالی معاونت کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ 20 لاکھ سے زائد مرد و خواتین اقوامِ متحدہ کے 70 سے زیادہ امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، پاکستان یو این امن مشنز میں سب سے طویل عرصے سےخدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل ہے، فوجی دستے دینے والے ممالک عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجتماعی طور پر امن کو ایک مشترکہ عالمی ترجیح قرار دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، 1960ء سے اب تک پاکستان نے 48 سے زائد یو این امن مشنز میں 2 لاکھ 35 ہزار سے زیادہ اہلکار بھیجے، 2 لاکھ 35 ہزار سے زیادہ اہلکاروں میں 500 سے زائد خواتین امن محافظین بھی شامل ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قومی فخر کی بات ہے کہ پاکستان آج اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پانچواں بڑا حصہ دار ملک ہے، 4 ہزار 400 سے زائد اہلکار دورانِ ڈیوٹی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، 181 سے زائد پاکستانی امن محافظین بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں میں شامل ہیں، پاکستان اپنے شہداء اور تمام بہادر بیٹوں اور بیٹیوں پر فخر کرتا ہے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے بلیو ہیلمٹس کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے ساتھ پاکستان کی وابستگی 6 دہائیوں پر محیط ہے، جو عالمی امن، استحکام اور انسانی ہمدردی کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 1960ء سے اب تک 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد پاکستانی امن دستوں نے اقوامِ متحدہ کے مختلف مشنز میں خدمات سرانجام دیں، جبکہ 183 بہادر پاکستانی جوان قیامِ امن کی کوششوں کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی بلیو ہیلمٹس اس وقت بھی جمہوریہ کانگو، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی خطے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں وہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کی ذمے داریاں بھی ادا کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور کے جنگی خطے تیزی سے غیر مستحکم، پیچیدہ اور غیر روایتی نوعیت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ آج کے امن دستوں کو ہائبرڈ خطرات کا سامنا بھی ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2026ء کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کا موضوع امن میں سرمایہ کاری رکھا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنازعات کے بعد پائیدار امن کے قیام کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔
بیان کے مطابق موجودہ دور میں امن میں سرمایہ کاری کا مطلب ٹیکنالوجی، تربیت اور ادارہ جاتی ڈھانچوں میں جدت لانا بھی ہے تاکہ امن مشنز کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے مقاصد اور اصولوں سے مکمل وابستگی رکھتی ہیں اور عالمی استحکام، سلامتی اور انسانی خدمت کے لیے اقوامِ متحدہ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی، پائیدار امن کوئی خودکار عمل نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل، اجتماعی اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری اور تعاون ناگزیر ہے، اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے عالمی استحکام، سلامتی، انسانی ہمدردی کی کوششوں میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔















Post your comments