لڑائی بہت ہوچکی، اب آپ کو فیصلہ کرنا ہے، زیلنسکی کا پیوٹن کو خط

یوکرینی صدر زیلنسکی نے روسی ہم منصب پیوٹن کو دوطرفہ ملاقات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑائی بہت ہوچکی، اب آپ کو فیصلہ کرنا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق یوکرینی صدر زیلنسکی نے روسی صدر پیوٹن کے نام خط شائع کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج اس سال ڈونیٹسک کے علاقے پر قبضہ نہیں کر سکے گی، صدر زیلنسکی نے صدر پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین مذاکرات کے دوران جنگ بندی کے لیے تیار ہے، امریکا، روس اور یوکرین جنگ بندی کی نگرانی کرسکتے ہیں۔

صدر زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہوگا تو یوکرین لڑنے کیلئے تیار ہے۔

یوکرینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ جنگ ختم نہیں کرتے تو آپ کو اپنی ذاتی بقا کیلئے لڑنا پڑے گا۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ملاقات کریں تو یہ بہت اچھا ہوگا۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے مصالحت ضروری ہے۔

ایران کی صورتحال سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایرانی قیادت، نیوی اور فضائیہ کو ختم کردیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے امریکی فوج پر حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز بن سکتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کیے بغیر بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیل کے تحت ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکے گا، آپ جلد جان جائیں گے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا، ایران کے ساتھ ڈیل کی صورت میں سپریم لیڈر سے ملاقات ممکن ہے۔

ڈونلد ٹرمپ نے کہا کہ لبنان کی صورتحال پر نظر رکھنی ہوگی، امن قائم ہونا لبنان کے لیے اچھا ہوگا، حزب اللّٰہ سے لبنان کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔

روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ ہم یوکرین کے ساتھ پرامن طریقے سے ڈیل کرنے کیلئے تیار ہیں، الاسکا میں صدر ٹرمپ نے سمجھوتوں کا کہا، روس اس کیلئے تیار ہے، یوکرین کو بھی سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہیں، یوکرین کی فوج کا سب سے بڑا مسئلہ عملے کی شدید کمی ہے، یوکرین اپنے علاقے کھو رہا ہے، لوہانسک روس کا مکمل کنٹرول ہے۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ روس نے حال ہی میں یوکرین کا 2440 مربع کلومیٹر کا علاقہ قبضے میں لیا، یوکرین کو میزائلوں اور دیگر اسلحے کی کمی کا سامنا ہے، ڈونباس کے علاقے کا کنٹرول حاصل کرسکتے اور اب بھی امن معاہدہ کرسکتے ہیں، روسی اور یورپی انٹیلی جنس سروسز کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمیشہ فوجی میدان میں تعاون کیا، ایسا کرنا جاری رکھیں گے، ہم کسی کے خلاف نہیں، باہمی مفادات کیلئے کام کرتے ہیں، چین کے ساتھ ہمارے مفادات یکساں ہیں، بھارت، امریکا تعلقات روس اور بھارت تعلقات میں کبھی رکاوٹ نہیں بنے، ہم بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینا جاری رکھیں گے۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ جرمنی کو نورد اسٹریم کے ذریعے روسی گیس کی فراہمی پر فیصلہ کرنا ہوگا، ہم جرمنی کو روسی گیس کی فراہمی کے لیے تیار ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *