چین کے صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام نے بیرونی مداخلت مسترد کر دیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر کے دورے پر گئے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے 4 نکاتی حکمتِ عملی پر زور دیا گیا۔
مصری صدر سے ملاقات کے دوران چینی صدر نے کہا ہے کہ چین امن اور استحکام کے لیے ڈائیلاگ کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرقِ وسطیٰ کا اہم مسئلہ ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشترکہ جامع تعاون پر مبنی دیرپا سیکیورٹی کا نظام قائم کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقی کے حصول کے لیے مضبوط اور بین الاقوامی رابطے بڑھائے جائیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران خطے میں مشترکہ سیکیورٹی سےمتعلق چین کی تجویز کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ چین کی جانب سے اس بات پر زور دیا جانا کہ مشترکہ سیکیورٹی اپنائی جائے، یہ وہی اصول ہے جس کی طویل عرصے سے ایران وکالت کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں میں لیں۔ حقیقی استحکام اسی وقت آسکتا ہے جب نیا سیکیورٹی ڈھانچہ بنایا جائے جسکی اسی خطے میں نشوونما ہوئی ہو۔ ایران اس کے لیے تیار ہے۔
قالیباف نے کہا کہ تہران نے ہمیشہ علاقائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے سے باہر کی طاقتوں پر اپنا انحصار کم کریں اور باہمی تعاون کے ذریعے سیکیورٹی انتظامات کریں۔
یاد رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کے لیے نیا ڈھانچہ قائم کرنے کیلیے چار نکاتی حکمت عملی پر زور دیا تھا۔
مصر کے صدر عبدالفتح السیسی سے بدھ کو ہوئی ملاقات میں صدر شی نے کہا تھا کہ مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور دیرپا سیکیورٹی قائم کی جائے۔














Post your comments