امریکا سے تمام رابطے معطل کردیئے، ایران، فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں، ٹرمپ

ایران کی نیوز ایجنسی تسنیم نے بتایا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کیلئے ثالثوں کے ساتھ تمام تر تبادلوں کو معطل کر دیا ہے،یہ فیصلہ لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں، جنگ بندی شرائط کی خلاف ورزیوں کے باعث کیا گیا ہے ،نیوز ایجنسی کے مطابق مذاکرات کی بحالی کی پیشگی شرط میں غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیاں روکنا اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے فوجیوں کا انخلا شامل تھا،ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اگر حزب اللہ پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے،ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک ایران اور مزاحمتی اتحاد کے مطالبات تسلیم نہیں کئےجاتے، کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے،پاسداران انقلاب کے کمانڈر اسماعیل قا نی نے کہا ہے کہ اگر صیہونی ریاست نے امریکی حمایت سے لبنان اور غزہ میں حملے نہ روکے تو ایران اورخطےمیں موجود اس اس کے اتحادی آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند اور دیگر محاذوں کو بھی سرگرم کردیں گے ،ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ لبنان میں مزید کشیدگی برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نےایکس پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ ایرانی افواج کے صبر کی ایک حد ہے۔آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے زیرِ انتظام ہے، ہم اپنی بندرگاہوں 0 کے محاصرے کو مزید برقرار رہنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے تاحال امریکا کو جنگ بندی پیغامات کا تبادلہ روکنے سے مطلع نہیں کیا،اس معاملے پر عوامی سطح پر بہت زیادہ گفتگو کی جا رہی ہے، اوراس وقت خاموشی اختیار کرنا زیادہ بہتر ہوگا،ایران نے تاحال پیغامات کا تبادلہ روکنے سے آگاہ نہیں کیا،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان پرمزید حملوں کی دھمکی دی ہے،اسرائیلی دھمکی کے جواب میں ایران کی خاتم الانبیاء فورس نے شمالی اسرائیل کے شہریوں کو انخلا کی ہدایت کردی ہے،پاسداران انقلاب نے ایرانی جزیروں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں میزائل حملوں کی ویڈیو جاری کردی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں پیغامات کا تبادلہ روکنے کے فیصلے سےکوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اس وقت کا انتظار کریں گے جب ایران امریکا کو منظور شرائط پر ڈیل کرنے کو تیار ہوگا،امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اگرآپ سچ سنناچاہتے ہیں توسنیں کہ مجھے لگتا ہے کہ ہم باتیں بہت کرتے ہیں، میرے خیال میں خاموشی بہتر ہوتی ہے،امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی پیغامات معطلی کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکا پھر سےبھرپور فوجی کارروائیاں شروع کردے گا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا جا کر ایک بار پھر ایران پر بم گرانا شروع کردے گا،ٹرمپ نے کہا کہ ہم خاموش رہیں گے، ہم ایران کی بحری ناکا بندی جاری رکھیں گے، یہ ناکا بندی آہنی ہے۔ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران واقعی ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور یہ ’امریکا اور ان لوگوں کے لئے ایک اچھا معاہدہ ہوگا جو ہمارے ساتھ ہیں۔‘اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انہوں نے لکھا کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن جماعت کے اراکین کی طرف سے منفی تبصرے ان کیلئےکام کو درست طریقے سے انجام دینا اور مذاکرات کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔انہوں نے ڈیموکریٹس کو بطور طنز ڈمبوکریٹس لکھا اور طنز کرنے والے ریپبلکن اراکین کو غیر محبِ وطن قرار دیا۔انہوں نے لکھا: ’بس آرام سے بیٹھے رہیں، آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے!‘۔فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں خطے کی حالیہ صورتحال پر پیش رفت زیر بحث آئی ۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے پیر کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملوں کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد نقل مکانی کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔ اس تنازع کے باعث لبنان میں اب تک 10لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *