بشکیک: وزیراعظم شہباز شریف کی صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش

وزیرِاعظم شہباز شریف کے اعزاز میں کرغزستان کے صدارتی محل میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔

صدارتی محل پہنچنے پر کرغزستان کے صدر صادر نور ژاپاروف نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کو صدارتی محل آمد پر گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، پاکستان اور کرغزستان کے قومی ترانے بجائے گئے۔

دونوں رہنماؤں نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، وزیرِ اعظم کو کرغزستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی۔

کرغز صدر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اپنے وفد کے ارکان سے تعارف کرایا، وزیرِ اعظم نے بھی کرغز صدر سے پاکستانی وفد کے ارکان کا تعارف کرایا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی ہمارے خطے کی لائف لائن اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، پانی کو سیاسی دباؤ کیلئے ہتھیار نہیں بننے دینگے، سندھ طاس معاہدے پر غیر مشروط عملدرآمد کیا جائے، ایران امریکا تنازع کے حل اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سب سے قابل عمل اور پائیدار راستہ ہے، حالیہ بحران نے محفوظ توانائی راہداریوں کی اہمیت واضح کردی، مکہ دفاعی اتحاد مشترکہ عزم کا واضح پیغام ہے، اقوام متحدہ میں فوری اصلاحات کی جائیں، پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے،دہشت گردی ایس سی او ممالک کیلئے مشترکہ خطرہ ہے۔غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے، عالمی برادری کو بے گناہ فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے اور انکے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے تحفظ کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم کے ایس سی او پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت بے مثال ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے،80 برس قبل اقوام متحدہ کا قیام اس عالمگیر خواب کو حقیقت بنانے کیلئے عمل میں لایا گیا تھا کہ تمام جنگوں اور تنازعات کا خاتمہ ہو اور پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔ ان آٹھ دہائیوں کے دوران پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کیلئے مکمل طور پر پُرعزم اور کاربند رہا ہے،ہم اس کو ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ذریعے زیادہ مساوی، جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے تاہم آج اقوام متحدہ کو فوری طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، اسے زیادہ جوابدہ اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مؤثر بننا ہوگا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *