دشمن کی ہر حرکت ہماری بحریہ کی نظروں میں ہے: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں 3 امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک ڈسٹرائر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دونوں جنگی جہاز مبینہ طور پر ایران کی بحری ناکہ بندی میں شریک تھے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں کو ایرانی بحری جہازوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے پر نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد دونوں امریکی جنگی جہاز علاقے سے فرار ہوگئے۔

ایرانی حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی ایک بغیر پائلٹ کشتی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو آبنائے ہرمز کے محفوظ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ دشمن کی ہر حرکت ہماری بحریہ کی نظروں میں ہے اور دشمن کی ہر کارروائی کا فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا۔

پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں پر 3 جہازوں کو نشانہ بنایا، دیگر علاقوں میں 3 امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

پاسداران انقلاب کے دعوے کی امریکا نے تصدیق نہیں کی ہے۔

اس سے پہلے امریکی فوج نے ایرانی جزیرے خارگ میں تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

سینٹ کام نے کہا کہ کارروائی ایران کی جانب سے امریکی نیوی کے جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے جواب میں کی گئی۔

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن تھائی لینڈ سے واپس روانہ ہو گیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں معمول کی کارروائیوں میں حصہ لے گا، ابراہم لنکن اپنی تعیناتی کے دوران ایران جنگ اور امریکی ناکہ بندی میں شامل تھا۔

تھائی بندرگاہ پر 5 روز کے دوران بحری جہاز کی صفائی ستھرائی کا کام ہوا، امریکی بحری جہاز پر 5 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی اور ترک ہم منصبوں سے گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔

تینوں وزرائے خارجہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *