پاکستان کے یومِ دفاع و شہدا کی مناسبت سے انقرہ میں پاکستانی سفارتخانے کے زیرِ اہتمام ایک پروقار استقبالیے کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر تھے۔
تقریب میں ترک مسلح افواج کے اعلیٰ ترین حکام سمیت اہم ترک شخصیات، سفارتی و عسکری نمائندوں اور پاکستانی کمیونٹی کے سرکردہ افراد نے شرکت کی۔
شرکاء میں ترک جنرل اسٹاف کے کمانڈر جنرل سلچوک بایراکتار اولو، ترک بری فوج کے کمانڈر جنرل متین توکل، بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل ارجمنت طاطلی اولو اور فضائیہ کے کمانڈر جنرل رفعت دال کیران کے علاوہ سابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِ صحت رجب آقداع، نائب وزیرِ خارجہ حاجی علی اوزل، ڈی ایٹ کے سیکریٹری جنرل سہیل محمود، مختلف ممالک کے ملٹری اتاشی، اعلیٰ ترک حکام، پاکستانی کمیونٹی کے نمائندے اور دیگر معزز مہمان شامل تھے۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے قومی ترانے پیش کیے گئے۔ پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ (PEISG) کے طلبہ نے مختلف پروگرام پیش کیے، جبکہ یومِ دفاع و شہدا کی اہمیت اور قومی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلمیں بھی دکھائی گئیں۔
دفاعی و فضائی امور کے اتاشی ایئر کموڈور محمد آصف بھٹی نے اپنے خطاب میں 6 ستمبر 1965ء کو پاکستان کے دفاع کے لیے پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی جانب سے پیش کی جانے والی بے مثال جرأت اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کے اصول پر پختہ یقین رکھتا ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خطے کے امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے عزم اور صلاحیت سے پوری طرح آگاہ ہے۔

پاکستان کے ترکیہ میں سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے اپنے خطاب میں وطن کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے قومی دفاع کے مختلف محاذوں پر ہمیشہ غیر معمولی بہادری، استقامت اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے قومی دفاع کے علاوہ قدرتی آفات سے نمٹنے اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات اور قربانیوں کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے عالمی اور علاقائی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا آرہا ہے۔

سفیر یوسف جنید نے جموں و کشمیر کے مسئلے کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع تقسیمِ ہند کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے اور آج بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازع کا پرامن حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق چاہتا ہے۔
ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر نے اس موقع پر پاکستانی عوام کو یومِ دفاع و شہدا کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، گہرے اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو ترکیہ کا ایک اہم تزویراتی شراکت دار قرار دیا۔
یاشار گولر نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ پاک ترک تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔
ترک وزیرِ دفاع نے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم مکہ دفاعی اتحاد کو بھی تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، اجتماعی بازدار قوت میں اضافے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائی گئی، جس کے بعد پاکستانی سفارتخانے کی رہائش گاہ میں مہمانوں کی تواضع روایتی پاکستانی کھانوں اور دیگر لوازمات سے کی گئی۔














Post your comments