آبنائے ہرمز میں دوبحری جہاز نشانہ ‘اہم آبی گزرگاہ فلیش پوائنٹ بن گئی ‘امریکا اور ایران آمنے سامنے آگئے ‘ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے‘کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ امریکا نے اصرارکیاہے کہ آبی گزرگاہ بحری آمدو رفت کیلئے کھلی ہے ‘سینٹرل کمانڈکے مطابق ہرمز پر ایران کا کنٹرول نہیں‘ امریکی افواج جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں جبکہ صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن ہفتے کو ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن اچانک ایران نےایک جہاز پر ڈرون حملہ کردیا‘ان لوگوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے ۔امریکی فوج کے مطابق قبرص کے کنٹینر بردار جہازکو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران پر حملوں کا تیسرا مرحلہ شروع کردیا گیا ہے ‘ امریکی افواج نے تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان میں میزائل اور ڈرون تنصیبات‘ اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز اور ساحلی نگرانی کے مقامات شامل تھےجبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق ایران نے غلط فیصلہ کیاہے‘اب اسے قیمت چکانی پڑے گی‘دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں ‘عمان ‘اردن‘ کویت‘ بحرین اور قطر میں امریکی فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔اردن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگرز کو تباہ کر دیا ہے، کویت میں امریکی ریڈار سائٹ اور بعد میں راکٹ لانچر سسٹمز کو نشانہ بنایا، عمان میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کے سپورٹ اور ایندھن بھرنے والے پلیٹ فارمز پر حملہ کیا اور قطر میں ایک جیٹ مینٹی ننس سینٹر اور کمانڈ کی سہولت کو تباہ کر دیا ہے۔ ایران کے مرکزی مذاکرات محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیاپر جاری بیان میں کہاہے کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا۔ ہم نے آپ سے کہا تھااپنے وعدے پورے کریں یا وعدہ خلافی کی قیمت ادا کریں۔ حقیقت آپ کے سامنے ہے‘سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی کے مطابق آبی گزرگاہ درجنوں ایٹم بموں سے زیادہ اہم ہےاورایران اس کی حفاظت کرے گا۔سعودی عرب ‘عمان ‘کویت ‘کینیڈاودیگر ممالک نے خلیجی ریاستوں پرایرانی حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ عمان نے اپنی سرزمین پرڈرون حملوں کے بعد مسقط میں تعینات ایرانی سفیر موسیٰ فرہنگ کو طلب کر لیا ہے۔ او آئی سی نے ایرانی حملوںکو بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دے دیا‘ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکا اورایران پر زور دیا ہے کہ وہ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کو روکیں اور اسے ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں‘ دوبارہ جنگ کی طرف لوٹنا خطے سمیت پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا جبکہ عیسائیوں کے مذہبی پیشواپوپ لیونے فریقین سے مذاکرات اور سفارت کاری کی اپیل کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز امریکااور ایران کے درمیان تنازع کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے‘ تہران کا اصرار ہے کہ وہ اس آبنائے کو کنٹرول کرے گا جبکہ واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران ایسا نہیں کر سکتا۔پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک بند کر دیا گیا ہے‘بیان کے مطابق یہ فیصلہ اس پیش رفت کے بعد کیا گیا جب کئی بحری جہاز اس اہم آبی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ایک وارننگ شاٹ مذکورہ جہازوں میں سے ایک کو لگا جس کے نتیجے میں وہ رک گیا۔ہرمز اگلے حکم تک اور خطے میں امریکا کی مداخلتوں کے خاتمے تک بند رہے گی اور کسی بھی بحری جہاز کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘پاسداران نے مزید خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا اور خطے میں دشمن کے مزید فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ پرشین گلف واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی دستوں کی حالیہ غیر قانونی نقل و حرکت کے باعث آبنائے ہرمز سے آمد و رفت فی الحال ممکن نہیں ہے‘جیسے ہی استحکام اور امن کی صورتحال بحال ہوگی تمام درخواستوں کا جائزہ لیکراجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے امریکی جارحانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وحشیانہ حملے یو این چارٹر کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور عالمی امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا نے معاہدے کے 25 دن بعد ہی تمام شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر، ماہی گیری کی کشتیوں، مال بردار بارجز اور محکمۂ موسمیات کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظامات میں مداخلت کر کے امریکا نے عالمی تجارتی جہاز رانی میں خلل پیدا کیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ خلیج فارس کے جنوبی ممالک کو جارحیت کے لیے استعمال کر کے انہیں غیر قانونی اور مجرمانہ جنگ میں شامل کیا گیا ہے۔














Post your comments