آپریشن شعبان، تازہ کارروائیوں میں مزید 5 خوارج ہلاک

پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے مشترکہ آپریشن شعبان کے تحت تازہ کارروائیوں کے دوران مزید 5 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان میں ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 76 ہو گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 جولائی سے اب تک آپریشنز میں مجموعی طور پر 114 خوارج دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آخری دہشت گرد کے خاتمے تک بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری رہے گا۔

بلوچستان کا امن تباہ کرنے والے عبرت کا نشان بن رہے ہیں: محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب آپریشن شعبان پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ مشترکہ آپریشن میں مزید 5 خوارج کی ہلاکت پر فورسز کو سلام پیش کرتا ہوں، فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

انہوں نے ​دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو سراہا۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ​بلوچستان کا امن تباہ کرنے والے عبرت کا نشان بن رہے ہیں، پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہماری فورسز انتہائی متحرک، پروفیشنل اور الرٹ ہیں، بلوچستان کی دھرتی پر خون بہانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

 ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں نامعلوم افراد نے دکانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی،

جسکے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے 5 مزدور شہید ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مسلح حملہ آور فائرنگ کرنے کے فوراً بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے پانچوں افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا، جو یہاں دکانوں پر بطور مزدور کام کر رہے تھے۔واقع کی اطلاع ملنے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے کر لاشو ں کو ہسپتال پہنچایا، بعدازاں ضروری قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد تمام مقتولین کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کی جا رہی ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف نے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم اور نہتے مزدوروں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور بزدلانہ فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، ایسے انسانیت سوز جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دشمن عناصر کو انجام تک پہنچائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ماشکیل میں نامعلوم افراد نے دکانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جسکے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ سیکورٹی اور پولیس ذرائع کے مطابق اس افسوس ناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش جاری ہے تاکہ انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔فائرنگ کے نتیجے میں مرنے والوں کے نام محمد حسن، محمد قدیر، محسن اور بلال معلوم ہوئے ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیکر لاشو ں کو ہسپتال پہنچایا جہاں ضروری کارروائی کے بعد لاشیں پنجاب روانہ کردی گئیں۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید ہونے والے صرف پنجابی مزدور نہیں تھے وہ پاکستان کے شہری، محنت کش اور ہمارے اپنے بھائی تھے، ان معصوم شہریوں پر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت پر نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے۔آزادی کی نام نہاد تحریک کا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر اپنے مکروہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں، دہشت گردوں کا مقصد کسی حق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشت، نفرت، خونریزی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہےرریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، پاکستانی شہریوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گادہشت گردی میں ملوث ہر مجرم کو انجام تک پہنچایا جائے گا، ریاست کی رٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی مزید فیصلہ کن ہوگی، پاکستان کی ریاست دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکی ہے، نہ جھکے گی، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ معاون وزیر اعلی برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے کہاہے کہ حکومت بلوچستان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، معصوم اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *