اسکول کی کتابیں پکڑتے ہی سمجھ لیا تھا کہ پاکستان کے چار صوبے ہیں اس میں سے ایک بلوچستان ہے ۔ جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور کراچی سے بھی لگتا ہے ۔ تھوڑے اور بڑے ہوئے برٹش کونسل کی لائبریری یا امریکن سینٹر کی لائبریری کراچی میں گئے تو وہاں جب میں کتابیں کھولتا تھا تو اکثر ان پر نعرے لکھے ہوتے تھے ازاد بلوچستان ، بلوچستان کو ازاد کرو تو دماغ کام نہیں کرتا تھا کہ یہ کونسی بلوچستان ہے جس کی ازادی کی بات کی جا رہی ہے ۔
جب اخبار پڑھنے کے لائق ہوئے تو یہی پڑھتے تھے سنتے تھے کہ بلوچستان میں بہت ذخائر ہیں سوئی سے گیس اتی ہے جس گیس پر ہمارے گھروں کے چولہے جلتے ہیں اور ہماری امی گیس کو پوری طرح بند بھی نہیں کرتی تاکہ ماچس کا خرچہ نہ ہو ۔ شہنشاہ ایران اکثر پاکستان بھاگے چلے اتے ہیں اور صدر ایوب اور صدر یحیی اور بھٹو سے مل کے جاتے ہیں بعد میں ہمیں سکول کے ٹیچر نے بتایا کہ کیونکہ جب وہاں سے ہم تیل نکالنے لگتے ہیں یا معدنی ذخائر نکالتے ہیں تو شاہ ایران بھاگے ہوئے اتے ہیں کہ رک جاؤ رک جاؤ کیونکہ تیل کا ڈھلان اپ کی طرف ہے تو ایران کا تیل بند ہو جائے گا ۔ اور ہمارے ایران پرست حکمران یہ بات مان جاتے ہیں ۔ اور یہ بھی پڑھتے تھے کہ بلوچستان میں پانی کی کمی ہے دریا کم ہے تو کاریزے کے نام سے ایک طریقہ ہوتا ہے جس میں دریاؤں یا نہروں کا پانی چھوٹی نالیوں کی شکل میں کھیتی باڑی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔
اور ذرا بڑے ہوئے تو پتہ چلا کراچی کے قریب حب چوکی میں انڈسٹریل ایریا بن رہا ہے اور کراچی میں سائٹ انڈسٹری کے ساتھ ساتھ حب چوکی میں ایک بہت بڑا انڈسٹریل شہر بنے گا اور وہ بنا بھی اور بہت ساری فیکٹریاں وہاں پہنچ گئی اس کے ساتھ ساتھ گوادر اور پسنی کی بندرگاہوں پہ بھی کام ہونے لگا اور پھر پتہ چلا کہ پسنی پہ تو بہت بڑا ایئر فورس کا ایئرپورٹ بھی ہے جہاں سے تمام خلیج پر نظر رکھی جاتی ہے ۔ کوئٹہ کے پاس جھیل حنا کا بہت ذکر سنا کہ اس سے خوبصورت جھیل تو اس خطے میں نہیں ہے ۔ اور پھر یہ تو ہمیں شروع سے یاد تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے اخری ایام زیارت میں گزارے جو بہت پرفضا مقام تھا اور ذرا عقل آئ تو پتہ چلا کہ وہ زیارت کو دارالحکومت پاکستانی بنانا چاہتے تھے لیکن یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔
اور کوئٹہ سے ائی ہوئی ٹھنڈی ہوائیں کون بھول سکتا ہے جب سردی کے موسم میں تین گنا سردی بڑھ جایا کرتی تھی نارمل ٹوپیاں مفلر کام نہیں اتے تھے تو پتہ چلتا تھا کوئٹہ سے ہوائیں ا رہی ہیں ۔ کراچی سے کوئٹہ جانے والی ٹرین بولان میل کے بارے میں بتاتے تھے کہ یہ سات سرنگوں میں سے گزرتی ہے اور زبردست قسم کا ریل گاڑی کا تجربہ ہو سکتا ہے اگر اپ کوئٹہ جائیں ۔
اور اس سے بھی بڑی اہم بات تھی کہ kbhivبلوچستان سندھ کا حصہ تھا اس زمانے میں سندھ بلوچستان کی مشترکہ ہائی کورٹ ہوا کرتی تھی ۔ لیکن ون یونٹ توڑنے کے بعد بلوچستان خود ایک ازاد صوبہ بن گیا اور 1970 کے انتخابات میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے علیحدہ انتخابات ہوئے ۔ جہاں پر اس زمانے کی عوامی نیشنل پارٹی کے غوث بخش بدنجو کی قیادت میں حکومت بنائی گئی ۔
بلوچستان کی خود مختاری پر پہلا وار اس وقت کے وزیراعظم بھٹو نے اس وقت کیا جب انہوں نے اپنے ایک رہنما شیر پاؤ کے پشاور میں قتل کے بعد یک دم بلوچستان کی حکومت کو توڑ دیا ۔ وہاں گورنر راج لگا دیا اور اس کے بدلے میں ادھر صوبہ سرحد میں مفتی محمود کی قیادت میں مخلوط حکومت نے پیپلز پارٹی کے اس اقدام کے خلاف سرحد حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا ۔
پیپلز پارٹی نے فورا دونوں صوبوں میں اپنی حکومت بنا لی لیکن بلوچستان میں اس جدید جنگ ازادی کا اغاز ہو گیا جو اج تک ہمارے سر پہ چڑھی ہوئی ہے اسی دور میں بزنجو اور ان کے سارے سردار پہاڑوں پر چڑھ گئے بلکہ پہاڑوں پہ چڑھنے کی اصطلاح اسی وقت دنیا کے سامنے ائی ۔
اس کے بعد سے اج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں بلوچستان میں ان میں صرف راولپنڈی کے منظور نظر افراد کو ہی کامیاب قرار دیا جاتا رہا ہے اور کوئی عوامی حکومت وہاں نہیں بن سکی ۔
سب سے پہلا کوئٹہ کا سفر میں نے 1988 میں اس وقت کیا جب کراچی اور سندھ میں سندھی مہاجر فسادات عروج پر تھے خاص طور پر پکا قلعہ کے قتل عام کے واقعہ کے بعد کراچی میں بہت زبردست مدافیت ہوئی تھی اور سندھ واپس جانے والوں سے بولان میل کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ۔
پہلی مرتبہ کوئٹہ شہر پہنچ کے ایک سستے سے ہوٹل میں ٹھہرے لیکن کوئٹہ ہمیں ایک بڑے گاؤں کی طرح نظر ایا کوئی بلند بلڈنگیں اور عمارات نہیں تھیں ، دکانوں کی حالت زیادہ تر خستہ حال تھی کوئی اچھے کھانے کی ریسٹورنٹ نہیں تھے ۔
شام کو کسی نے بتایا کہ فلاں جگہ اچھا ریسٹورنٹ ہے وہاں ہم گئے تو میری عقل ٹھکانے اگئی جب میں نے ہر میز پر اچھے ماڈرن قسم کے نوجوان دیکھے اور جو باتیں میرے کانوں میں گزری وہ ساری بلوچستان کی ازادی سے متعلق تھی اور پاکستان کے حوالے سے میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ کوئی ایسا علاقہ ہے جہاں پاکستان ایک قابض ملک تصور کیا جاتا ہے ۔
اب میرے دماغ نے ناطہ بچپنے میں برٹش کونسل اور امریکن سینٹر کی لائبریری کی کتابوں میں لکھے ہوئے ان نعروں سے ملایا جہاں کتابوں پر ازاد بلوچستان ، بلوچستان کو ازاد کرو کے نعرے لکھے ہوتے تھے
کیا بلوچستان کی نئی نسل 80 کی دہائی سے ہی یہ سوچ رہی تھی کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے ۔ اگر وہ ایسا سوچتی تھی تو اس سوچ کو درست کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے کیا کچھ کیا ۔ بظاہر ایسا کچھ نظر نہیں اتا کیونکہ اگر اس دور میں اپنے پرانے یادوں کو تازہ کیا جائے تو اخبارات میں ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ بلوچستان پہ فوج کشی ہو رہی ہے بلوچستان کے فلاں علاقوں میں فوجی کاروائی ہوئی ہے ۔ فلاں علاقے میں دہشت گردوں نے پاکستان کی فوج یا پولیس پر حملے کیے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
طالب علموں کے علاوہ عام دکانداروں سے تاجروں سے ملو تو پتہ چلتا تھا کہ وہاں پر پنجاب کے کاروبار کافی ہے اور یہی حیرت کا باعث تھا کہ بلوچستان کے بازاروں میں پنجابیوں کی اتنی دکانیں کیوں ہیں ۔ اور ان کی دکانوں پر پاکستان کے پرچم اویزاں ہوتے تھے ۔ کسی بھی قومی پرچم کو بلاوجہ لہرانے کی اجازت دنیا بھر میں نہیں ہے اور جب اپ کسی علاقے میں پرچموں کی بہتات دیکھیں تو سمجھ لیں یہاں پر کوئی نہ کوئی اندرونی بے چینی موجود ہے ۔
اور جب ہم پوری طرح ہوش و حواس میں تھے تو گوادر پورٹ کا سی پیک سے راستہ سامنے ایا اور پھر سرمایہ کار گوادر میں زیادہ زمینیں خریدنے لگے پراپرٹیاں کی قیمتیں بڑھنے لگی اور پھر اس کے راستے میں دھماکے فائرنگ اغوا شروع ہو گئے جس میں ہمارے پیارے چینی بھائیوں کو بھی بخشا نہیں گیا ۔
چلیں جو بھی کچھ اکبر بکٹی سے لے کر اج تک ہوا اس کو ایک منٹ کے لیے ایک طرف رکھتے ہیں لیکن ہمیں پھر یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی حکومتیں بلوچستان کو پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ قائم rkhnev کے لیے اب تک کیا کیا ہے سوائے اپریشنز کرنے کے اور اس کے بدلے میں اپنے اوپر حملے کرانے کے ٹرینیں اغوا کرنے کے واقعات سے لے کر بسوں کو روک کر غیر مقامیوں کی شناخت کر کے گولی مارنے کے واقعات تک سے ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے
میرے ذاتی معلومات کے حوالے سے تو مجھے لگتا ہے کہ بلوچستان میں ازادانہ طور پر پاکستان کا پرچم لہرانا بھی اس وقت مشکل تک ترین مرحلہ ہے ۔ بلوچستان میں بہت زیادہ ابادی نہیں ہے لیکن یہی وہاں ایک بہت بڑا مسئلہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کے لیے چھپنے کے لیے بہت بڑے بڑے علاقے موجود ہیں پاکستانی فوج اپنی تمام تر وسائل کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی سرکوبی کر رہی ہے لیکن وہاں کے لوگوں کی حمایت بے حد ضروری ہے اس کے لیے ایسے اقدامات کیے جانے چاہیے جس سے مقامی ابادی کے ساتھ پاکستان کی محبت استوار ہو تبھی وہ وقت ائے گا کہ دہشت گردوں کو چھپنے کے لیے جگہ نہیں ملے گی اس کے علاوہ کراچی سے حب چوکی اور حب چوکی سے پسنی ‘ گوادر کے لیے زبردست قسم کے مواصلاتی راستے ہونے چاہیے ، چوڑے روڈ ہونے چاہیے اور کوئٹہ کے لیے بھی امد و رفت کے راستوں پہ کام ہونا چاہیے ٹرینوں کو حفاظت کے ساتھ گزارنے کے انتظامات ہونے چاہیے اور فریکونسی بھی بڑھانی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ سفر ہوگا تو لوگ ایک دوسرے کے علاقے میں ائیں گے ابھی تک بلوچستان جو کراچی کا ہمسایہ ہے کراچی سے صرف 30 کلومیٹر بلکہ اب تو ابادی ہی ہوتی ہے بلدیہ ٹاؤن کی اس کے ساتھ بلوچستان مل گیا ہے لیکن لگتا ہے جیسے وہ کسی دوسری ریاست کا حصہ ہے ۔
بلوچ عوام کو ان کے وسائل سے زیادہ عطا کر دیا جائے تو بہت بڑی قیامت نہیں ا جائے گی ہمیں ان کو محبت کے ساتھ لے کے چلنا چاہیے وہ بلوچستان پاکستان کا 60 فیصد رقبہ رکھتا ہے اس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اور نہ ہی پاکستان سے جدا کیا جا سکتا ہے جو تخریبی قوتیں وہاں بھارت ایران اور دوسری پراکسی کے ذریعے کام کر رہی ہیں ان کو یہ سبق سکھایا جانا ضروری ہے کہ پاکستان ہمیشہ کے لیے بنا ہے اور ہمیشہ رہے گا اور بلوچستان پاکستان کا حصہ ہی رہے گا














Post your comments