جدون قبیلہ: تاریخ، شناخت اور تہذیبی سفر تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

تاریخ کے صفحات پر بعض قبائل کا تعارف محض نسب یا جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتا بلکہ اُنکی پہچان اُن کے کردار، جدوجہد، تہذیبی روایات اور اجتماعی سفر سے بنتی ہے۔ خیبر پختونخواہ کے مہابن، ہزارہ، صوابی اور گدون کے علاقوں میں آباد جدون قبیلہ بھی ایسی ہی ایک تاریخی حقیقت ہے، جس نے صدیوں کے نشیب و فراز کے باوجود اپنی الگ شناخت کو برقرار رکھا۔ صوابی اور مردان کی طرف انہیں گدون جبکہ ایبٹ آباد و ہزارہ میں انہیں جدون کہا جاتا ہے۔ پشتون معاشرے کی اس اہم اکائی نے اپنی قبائلی روایات، سماجی نظم، سیاسی شعور اور خودداری کے مزاج کے ذریعے خطے کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
جدون قبیلے کی اصل اور نسب کے بارے میں مختلف تاریخی روایات موجود ہیں۔ پشتون شجرہ نویسی کے مطابق جدون غرغشتی پشتونوں کی ایک شاخ شمار ہوتے ہیں، جبکہ بعض روایات انہیں کاکڑ قبیلے سے بھی منسلک کرتی ہیں۔ سترہویں صدی کے مؤرخ خواجہ نعمت اللہ ہروی نے اپنی معروف تصنیف ’’مخزنِ افغانی‘‘ میں جدونوں کو غرغشتی قبائل میں شامل کیا، جبکہ سر اولف کیرو نے اپنی کتاب ’’دی پٹھان‘‘ میں بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے۔ تاہم جدید تاریخ نویسی اس امر پر زور دیتی ہے کہ قبائلی شجرے صرف نسب نامے نہیں ہوتے بلکہ وہ قبائل کے سماجی ارتقا، سیاسی تعلقات اور تاریخی حالات کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
تاریخی روایات کے مطابق جدون قبائل یوسف زئیوں کی نقل مکانی کے دوران موجودہ خیبر پختونخواہ کے شمال مغربی علاقوں میں پہنچے اور مہابن کے پہاڑی سلسلے، دریائے سندھ کے مغربی کناروں، صوابی اور ہزارہ کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق ہزارہ کے خطے میں جدونوں کی آباد کاری کا تعلق اُس دور کے سیاسی و عسکری حالات سے جوڑا جاتا ہے، جب اخوند سالاک اور بہاکو خان کی قیادت میں سواتیوں اور دیگر قبائل پر مشتمل ایک لشکر نے دریائے سندھ عبور کرکے ریاست پکھلی کے علاقے میں پیش قدمی کی۔ اس دور کے قبائلی پھیلاؤ کے نتیجے میں ہزارہ کے مختلف علاقوں میں سواتیوں کے ساتھ ساتھ جدون قبائل نے بھی اپنی آبادیاں قائم کیں۔
جدون قبیلے کی تاریخ میں مذہبی اور سماجی قیادت رکھنے والی شخصیات کا بھی اہم مقام رہا ہے۔ روایتی بیانیوں کے مطابق سلطان محمود گدون ایک معروف شخصیت تھے جو حضرت اخوند پنجو بابا کے خلیفۂ خاص تھے۔ جب حضرت اخوند پنجو بابا نے خطے میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لیے حضرت اخوند سالاک کی قیادت میں اپنے خلفاء کے گروہ تشکیل دیئے تو سلطان محمود گدون بھی اُن میں شامل تھے۔ روایات کے مطابق وہ جدون قبیلے کی معروف شاخوں سالار اور منصور کے قومی رہنما اور بااثر شخصیت تھے، جبکہ ہزارہ، کوہستان اور مہابن میں آباد جدون قبائل کے غازیوں کی قیادت بھی اُن سے منسوب کی جاتی ہے۔
قبائلی تنظیم کے اعتبار سے جدون قبیلہ ایک منظم سماجی ڈھانچے کا حامل رہا ہے۔ روایتی طور پر اسے تین بڑی شاخوں، سالار، منصور اور حسہ زئی، میں تقسیم کیا جاتا ہے جن سے متعدد ذیلی خاندان وجود میں آئے۔ گندف، بیسک، بابینی اور مہابن کے دیگر علاقے اُن کی قدیم آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ زراعت، مویشی پالنا اور مقامی تجارت اُن کی معیشت کے اہم ذرائع رہے، جبکہ جرگہ نظام نے سماجی معاملات، تنازعات کے حل اور اجتماعی فیصلوں میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی روایتی ادارے صدیوں تک ان کی اجتماعی شناخت کو مضبوط کرتے رہے۔
جدون قبیلے کی تاریخ کا ایک نمایاں پہلو بیرونی طاقتوں کے مقابلے میں مزاحمت کا رویہ ہے۔ سکھ دور میں جب ہزارہ اور ملحقہ علاقوں پر اقتدار مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تو مقامی قبائل نے اس کے خلاف مزاحمت کی، جن میں جدون بھی شامل تھے۔ روایتی بیانیوں میں سردار سخی جان جدون کا ذکر ایک ایسے رہنما کے طور پر کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی سرزمین کے دفاع میں کردار ادا کیا۔ برطانوی دور میں بھی جدون قبائل نے اپنی قبائلی خودمختاری، روایتی نظم اور سماجی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی مخصوص شناخت برقرار رکھی۔
جدون معاشرے کی بنیاد پشتون اقدار پر قائم رہی ہے۔ مہمان نوازی، غیرت، جرگہ، اجتماعی مشاورت اور عہد کی پاسداری ان کی سماجی زندگی کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ قبیلہ مختلف ثقافتی ماحول سے ہم آہنگ بھی ہوتا گیا۔ صوابی اور گدون کے علاقوں میں پشتو زبان ان کی شناخت کا اہم حصہ رہی، جبکہ ہزارہ کے بعض علاقوں میں آباد جدون خاندانوں نے ہندکو زبان کو بھی اختیار کیا۔ زبان کی تبدیلی کے باوجود ان کی قبائلی شناخت، روایات اور تاریخی شعور مسلسل برقرار رہا۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی جدون قبیلے نے قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کیا۔ سیاست، تعلیم، سرکاری خدمات اور سماجی میدان میں اس قبیلے سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات نمایاں رہیں۔ سلطان خان جدون نے ’’دی جدون‘‘ کے عنوان سے کتاب تحریر کرکے اپنے قبیلے کی تاریخ اور روایات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ ایسی علمی کاوشیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ جدون اپنی تاریخ، ثقافت اور اجتماعی ورثے کو آنیوالی نسلوں تک منتقل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *