نازک موڑ کی ’’سلور جوبلی‘‘ اور ہماری عالمی چودھراہٹ از قلم: نجیم شاہ

اگر آج دُنیا میں ’’نازک موڑ‘‘ پر کھڑے رہنے کا کوئی عالمی مقابلہ منعقد ہو جائے، تو پاکستان بلامقابلہ گولڈ میڈل جیت جائیگا۔ پچھلے 78 سالوں سے ہم جب بھی صبح اُٹھ کر اخبار کھولتے ہیں یا ٹی وی آن کرتے ہیں، ایک ہی فقرہ کانوں میں رَس گھولتا ہے کہ ملک اِس وقت تاریخ کے سب سے نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ ہمیں تو بچپن میں لگتا تھا کہ یہ نازک موڑ شاید مری یا کاغان کی کوئی خطرناک سڑک ہے جہاں ہماری پوری قوم ایک پرانی بس میں بیٹھی سفر کر رہی ہے۔

لیکن اب جو موجودہ عالمی حالات ہوئے ہیں، انہیں دیکھ کر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے کیونکہ دُنیا کو اب ہماری اصل قدر معلوم ہوگی۔ پچھلے کچھ عرصے سے پوری دُنیا کبھی معاشی بحران اور کبھی مہنگائی کے باعث اچانک ایک بڑے عالمی نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ دُنیا بھر کے گورے، امریکی اور یورپی لیڈرز اب ٹی وی پر آ کر رو رہے ہیں کہ دُنیا اِس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ میں نے جب یہ خبریں سنیں تو مجھے ان معصوم گوروں کی بے بسی پر شدید ترس آیا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ دُنیا اِس معاملے میں ہم سے بہت پیچھے ہے اور اسے ہمارے مرتبے تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ وہ ابھی ابھی اس موڑ پر آئے ہیں، اِسی لیے انہیں گاڑی کا گیئر بدلنا نہیں آ رہا، ان کے معاشی بریک فیل ہو رہے ہیں اور وہ گھبراہٹ میں اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا تجربہ دیکھیں کہ ہمیں اس موڑ پر حکومتیں چلانے کا ایسا منفرد تجربہ ہو چکا ہے کہ ہم بڑے سے بڑا معاشی طوفان بھی ہنس کر برداشت کر جاتے ہیں۔

ہم دُنیا والوں کے معصوم سوالات پر صرف مسکرا دیتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں کہ بھیا جب تمہارے ملک سپر پاور بھی نہیں بنے تھے، ہم تب سے اس نازک موڑ کے چیمپئن ہیں۔ ہمارے ہاں تو بچہ پیدا بعد میں ہوتا ہے، اسے ملکی حالات کے جھٹکے برداشت کرنے کی گھٹی پہلے ہی پلا دی جاتی ہے تاکہ وہ بڑا ہو کر پٹرول مہنگا ہونے پر پریشان نہ ہو۔ لہٰذا اب دُنیا کو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے بلکہ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ہم سے آ کر اس نازک موڑ پر بقا کا کورس کریں۔

اس طویل سفر میں ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسی تجربے کی بنیاد پر ہم آج دُنیا کے اُستاد بننے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ دُنیا کے بڑے بڑے ماہرِ معاشیات جو کتابیں پڑھ کر ڈگریاں لیتے ہیں، ہمارے ہاں کا ایک عام ریڑھی والا اُن سے بہتر معاشی پیشگوئی کر سکتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جب آئی ایم ایف کا وفد آتا ہے تو چہرے پر کتنی مظلومیت سجانی ہے اور جب وہ واپس چلا جائے تو کس طرح دوبارہ جینا شروع کرنا ہے۔ یہ وہ لائف ہیک ہے جو دُنیا کی کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جاتا۔

ہمارے اس سفر کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم نے کبھی اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، چاہے موڑ کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو۔ دُنیا جب بھی سوچتی ہے کہ اب پاکستان کا فائنل میچ ختم ہونیوالا ہے، ہم ایک نیا پینترا بدل کر تماشائیوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ یہ لچک اور یہ حوصلہ صرف اسی قوم کا حصہ ہو سکتا ہے جس نے بحرانوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا لیا ہو۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ زندگی صرف سیدھی سڑک پر گاڑی بھگانے کا نام نہیں، بلکہ خطرناک موڑ پر سائیڈ ہیرو کی طرح گاڑی کو مڑوانا اصل بہادری ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اس 78 سالہ قومی تجربے کو بین الاقوامی سطح پر ایکسپورٹ کریں اور اس سے زرمبادلہ کمائیں۔ ہم دُنیا کو ’’بغیر بجٹ کے گھر چلانے‘‘ اور ’’شدید ترین مہنگائی میں خوش رہنے‘‘ کی لائیو ٹریننگ فراہم کر سکتے ہیں، جس کی دُنیا کو آج سخت ضرورت ہے۔ ہماری اس ٹریننگ کے بعد امریکی اور یورپی عوام بھی یہ سیکھ جائیں گے کہ بجلی کا بل دیکھ کر دل کا دورۂ پڑنے سے کیسے بچنا ہے اور مسکراتے ہوئے بل کیسے جمع کروانا ہے۔ یہ ایک ایسا نایاب فن ہے جو صرف ہم ہی دُنیا کو سکھا سکتے ہیں۔

آخر میں، صرف یہی کہوں گا کہ ہمیں اپنے اس نازک موڑ سے اب سچی محبت ہو گئی ہے اور ہم اسے کسی صورت کھونا نہیں چاہتے۔ یہ موڑ ہی ہماری پہچان ہے، یہی ہماری سیاست کا مرکز ہے اور یہی ہمارے ٹی وی چینلز کی رونق کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ موڑ کبھی سیدھا ہو گیا، سب کچھ ٹھیک ہو گیا، تو ہمارے پاس صبح اُٹھ کر بحث کرنے کے لیے کوئی موضوع ہی نہیں بچے گا۔ اس لیے دُعا ہے کہ یہ نازک موڑ ایسے ہی سلامت رہے اور ہم اسی طرح دُنیا کو حیران کرتے رہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *